مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو (NAB) نے حکومت سے قانون پر نظرثانی کی درخواست کی ہے تاکہ کرپشن کے وہ کیسز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں آ سکیں جن کی مالیت 500 ملین روپے سے کم ہو۔ موجودہ قانون کے تحت ادارہ اس حد سے کم مالیت کے مقدمات نہیں اٹھا سکتا، جسے نیب نے کارروائی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے ایک حالیہ میڈیا انٹریکشن میں پیش کیا، جس میں نیب کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
چیئرمین نے بتایا کہ نیب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ حد 50 ملین روپے تک کم کی جائے تاکہ ادارہ “میگا” کرپشن کیسز میں بھی مؤثر کارروائی کر سکے۔ اسی بریفنگ کا مقصد میڈیا کو نیب کی حالیہ کامیابیوں سے آگاہ کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے نے قابضین سے ریاستی زمینیں واپس حاصل کی ہیں جن کی مالیت اُن کے مطابق کھربوں روپے بنتی ہے۔ ان میں پاکستان ریلوے کی 235,622 کنال زمین بھی شامل ہے، جبکہ ایک اور دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ ریلوے کی زمین کی مجموعی مالیت 6.78 کھرب روپے ہے۔
نیب چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ ادارہ منی لانڈرنگ کے کیسز پر بھی توجہ دے رہا ہے اور اس حوالے سے مغربی ممالک کے رویے پر تنقید کی۔
تاریخ/وقت: رپورٹ 22 اکتوبر 2026، 15:10 PKT کو شائع ہوئی۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038934/nab-seeks-lowering-of-graft-threshold-to-rs50-million
مطابق Dawn - Pakistan
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف نیب کے دائرہ اختیار کا نہیں، بلکہ اس بحث کا ہے کہ پاکستان میں بڑی بدعنوانی کو روکنے کے لیے قانون کتنے مضبوط اور کتنے عملی ہیں۔ اگر 500 ملین روپے کی حد برقرار رہتی ہے تو کئی ایسے کیسز نیب کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں جن میں رقم بڑی ہے مگر موجودہ حد سے کم ہے۔ اس کا سیدھا اثر عوامی پیسے، سرکاری زمین اور ریاستی اثاثوں کے تحفظ پر پڑتا ہے۔
پاکستان میں سرکاری زمینوں پر قبضہ، مالی بے ضابطگیاں اور منی لانڈرنگ جیسے مسائل عام آدمی کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ ان کا بوجھ آخرکار مہنگائی، کمزور اداروں اور ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے۔ نیب کے دعوے اگر درست ہیں تو یہ ریاستی اثاثوں کی واپسی کے بڑے دعوے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا قانون میں تبدیلی کے بعد ادارہ واقعی زیادہ مؤثر ہوگا یا پھر یہ صرف سیاسی اور قانونی کشمکش کو مزید بڑھا دے گا؟
عمل یا حل
اب فیصلہ حکومت اور قانون سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ نیب کی اس تجویز پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔ اگر 500 ملین روپے کی حد کم کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ نسبتاً کم مگر اہم کرپشن کیسز بھی نیب کے دائرے میں آ سکیں گے۔ دوسری طرف، یہ بحث بھی کھلے گی کہ احتساب کا دائرہ وسیع کرنے سے شفافیت بڑھے گی یا اختیارات کے غلط استعمال کا خطرہ بھی ساتھ آئے گا۔
عوام کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ سرکاری زمینیں، ریکوری اور منی لانڈرنگ کے مقدمات صرف اعلانوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان پر ٹھوس، شفاف اور بروقت کارروائی ہو۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان کو واقعی نیب کے لیے 50 ملین روپے کی حد چاہیے، یا پہلے موجود قوانین کے نفاذ کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے؟