عوامی اثرات
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں اور نئی دہلی میں یہ اہم ترین ملاقات پاکستانی عوام اور ملک کے سفارتی حلقوں میں گہری تشویش اور بحث کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ روس کے ساتھ پاکستان کے اپنے تعلقات بھی ایک نازک موڑ پر ہیں، اور بھارت کا روس کے قریب جانا خطے میں اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ پاکستانی عوام اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ روس اور بھارت کا یہ دفاعی اور تجارتی گٹھ جوڑ براہ راست پاکستان کی علاقائی سلامتی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، برکس تنظیم میں پاکستان کی شمولیت کی کوششوں کے پس منظر میں، بھارت کا روس، چین اور ایران کے صدور کی نئی دہلی میں میزبانی کرنا سفارتی میدان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی نوجوان اور سیاسی تجزیہ کار سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اس صورتحال میں کس طرح خود مختار اور متحرک ہونا چاہیے تاکہ خطے میں تنہائی سے بچا جا سکے۔
عمل یا حل
اس تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں فوری اور انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے آزادانہ تعلقات کو مضبوط بنائیں اور صرف چین پر انحصار کرنے کے بجائے سفارتی تعلقات کا دائرہ وسیع کریں۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ توانائی اور تجارتی شعبوں میں براہ راست مذاکرات کو تیز کرنا چاہیے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستانی میڈیا اور دانشوروں کو بھی اس حساس معاملے پر سطحی تبصروں کے بجائے گہرائی سے تجزیہ پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام کو عالمی صف بندیوں کے حقیقی اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان جذباتی فیصلوں کے بجائے خالصتاً اپنے قومی مفادات پر مبنی حقیقت پسندانہ سفارت کاری اختیار کرے۔
کیا پاکستان روس اور بھارت کے اس بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور خود مستقل خارجہ پالیسی اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا ہم عالمی بلاک بندی میں مزید پیچھے رہ جائیں گے؟