عوامی اثرات

اس واقعے نے پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم اور انتہائی کھیلوں (extreme sports) کے شوقین افراد کی حفاظت پر ایک بار پھر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آصف محمود کی گمشدگی سے نہ صرف ان کے خاندان اور واہ کینٹ کے رہائشی گہرے صدمے اور تشویش کا شکار ہیں، بلکہ ملک بھر کی کوہ پیما اور پیراگلائیڈرز برادری میں بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ چترال جیسے دشوار گزار اور دور دراز علاقوں میں جب بھی کوئی ایسا حادثہ پیش آتا ہے، تو جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور سست رفتار ریسکیو نظام کی خامیاں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔\n\nعوامی سطح پر یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت کو فروغ دینے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، لیکن ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں موسم تیزی سے کروٹ بدلتا ہے، وہاں مہم جوؤں کو بغیر کسی لائیو سیٹلائٹ ٹریکر یا ہنگامی لائف سپورٹ کٹ کے اتنے بڑے خطرات مول لینے کی اجازت دینا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اب ان مہم جوئیوں کے دوران حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عمل یا حل

اس سنگین صورتحال کا فوری حل یہ ہے کہ ریسکیو 1122 اور پاک فوج کے ہوابازی کے شعبے کو جدید ترین ہیلی کاپٹرز اور تھرمل امیجنگ کیمروں کے ساتھ اس مہم میں شامل کیا جائے تاکہ آصف محمود کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔ مستقبل کے لیے حکومت اور سیاحتی اداروں کو سخت قوانین وضع کرنے ہوں گے، جس کے تحت کسی بھی پیراگلائیڈر یا کوہ پیما کو لائیو جی پی ایس ٹریکر (GPS Tracker) کے بغیر اڑان بھرنے یا چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی سطح پر ہنگامی ریسکیو ٹیموں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور آلات فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔\n\nمیڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے تاکہ ضلعی انتظامیہ اور ٹورازم ڈپارٹمنٹ اپنی غفلت سے بیدار ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض حادثات پر افسوس کرنے کے بجائے ایک فعال اور فوری ردعمل کا حامل حفاظتی ڈھانچہ تیار کریں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری حکومتیں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد کبھی ہوش کے ناخن لیں گی، یا اگلی بار بھی ہم کسی ایسے ہی دل دہلا دینے والے حادثے کا انتظار کریں گے؟