عوامی اثرات

یہ کیس صرف ایک فرد کے قتل کا معاملہ نہیں رہا بلکہ کراچی کے تفتیشی اور طبی نظام میں موجود سنگین خلا کو بے نقاب کر رہا ہے۔ جب پولیس سرجن اور قریبی کاروباری شراکت دار ہی شک کے دائرے میں آ جائیں اور ریکارڈ غائب ہونے کی باتیں سامنے آئیں، تو عام شہری کا انصاف کے نظام سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض ایک واردات نہیں بلکہ کسی بااثر سائے کو بچانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

عمل یا حل

کیا جوڈیشل کمیشن کی سخت گیری سے شواہد مٹانے والی کالی بھیڑیں بے نقاب ہو سکیں گی، یا یہ کیس بھی روایت کے مطابق التوا کا شکار ہو جائے گا؟