عوامی اثرات
اس زہریلے سیاسی تنازع نے عام پاکستانی بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہریوں میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ جب اعلیٰ ترین حکومتی عہدے دار دوسرے صوبوں کو دہشت گردی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں تو اس سے عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے محنت کش اور تاجر جو روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں پنجاب کا رخ کرتے ہیں، وہ اب خود کو غیر محفوظ اور تعصب کا نشانہ بنتا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
مزید برآں، سیاسی کشیدگی کے باعث تجارتی راستوں پر پیدا ہونے والی رکاوٹیں دونوں صوبوں کی معیشت کو تباہ کر رہی ہیں۔ کاروباری برادری اور عام شہری اس کشمکش کی سب سے بڑی قیمت چکا رہے ہیں، کیونکہ بیانات کی اس جنگ سے روزمرہ کی اشیاء کی نقل وحرکت متاثر ہو رہی ہے اور سرحدی علاقوں کے تاجروں کا روزگار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
عمل یا حل
اس نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی قیادت پوائنٹ اسکورنگ اور جذباتی بیان بازی فوری بند کریں۔ دہشت گردی جیسے حساس اور قومی مسئلے کو صوبائی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سیکورٹی اداروں اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تمام صوبوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ باہم بیٹھ کر بات چیت کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو ملکی یکجہتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور صوبوں کے درمیان تجارتی راستوں کی بحالی اور باہمی ہم آہنگی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔ محض الزام تراشی سے سیکورٹی کے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے ملکی سلامتی مزید کمزور ہوگی۔
کیا آپ کے خیال میں صوبائی حکومتوں کا ایک دوسرے پر الزام لگانا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں۔