یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر ملک بھر میں شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کے مطابق، اس تاریخی دن کی مناسبت سے اعلیٰ قیادت اور عسکری اداروں کی جانب سے قوم کو یکجہتی، بیدار مغزی اور کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کا قاطع پیغام دیا گیا ہے۔

صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے اپنے الگ الگ پیغامات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ عسکری قیادت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی مس ایڈونچر کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے ملک کی پرامن پالیسی کو کسی صورت کمزوری سمجھنے کی غلط فہمی نہ پالیں۔

1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر کی طرح آزاد کشمیر میں بھی خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ بالخصوص آزاد کشمیر کے پانڈو سیکٹر میں مقامی آبادی اور جیوے جوانوں نے ان شہداء کو یاد کیا جنہوں نے دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے، جو کہ ملک کی بقا اور دفاعی تاریخ کا اہم باب ہے۔

اس موقع پر بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گولر نے یومِ دفاع کی مناسبت سے پاکستان کی عوام اور افواج کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم برادرانہ تعلقات اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی عزم کا اظہار کیا۔

موجودہ جیو پولیٹیکل حالات اور علاقائی چیلنجز کے تناظر میں یومِ دفاع کا یہ پیغام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے ایک ہی بیانیے کا اظہار دشمن کو یہ واضح باور کراتا ہے کہ تمام تر اندرونی چیلنجز کے باوجود قوم اور افواج ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

آنے والے دنوں میں پاکستان اپنی دفاعی صنعت، جدید تکنیکی صلاحیتوں اور عسکری تیاریوں کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہے گا۔ عسکری اور سیکیورٹی ادارے اقتصادی چیلنجز کے باوجود سرحدوں کے تحفظ، ملکی دفاع کی مضبوطی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے اپنے تحرک اور بیدار مغزی کو جاری رکھیں گے۔