پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں نے برطانوی حکومت کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد کی قید اور قانونی مشکلات کے معاملے پر لندن انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا تعاون فراہم نہیں کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کی جانب سے اس موقف کے بعد عالمی سطح پر سیاسی گفتگو کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق، عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ برطانوی حکام کا رویہ اس پورے معاملے میں ان کی توقعات کے بالکل برعکس رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق اور انصاف کی بالادستی کے دعوؤں کے باوجود لندن انتظامیہ نے اس سلسلے میں کوئی موثر کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔
عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے مختلف سیاسی اور قانونی مقدمات کے تحت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت اور حامی مسلسل یہ کوشش کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے معاملے پر توجہ دیں تاکہ ان کی صحت اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان انتہائی اہم ہے کیونکہ عمران خان کے دونوں بیٹے برطانیہ میں مقیم ہیں اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ وہ برطانوی حکومت اور اراکینِ پارلیمنٹ کو متحرک کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ تاہم، موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستان کے اندرونی سیاسی و قانونی امور سے فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عمران خان کا دفاعی پینل اور ان کا خاندان عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا نیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق خاندانی ارکان اب دیگر بین الاقوامی اداروں اور حقوق کی تنظیموں کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔