مکمل تفصیلات

لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے جمعہ کے روز 12 سے 14 مارچ 2027 تک ضلع لاہور میں تین روزہ بسنت منانے کی باضابطہ اجازت جاری کر دی۔ یہ اجازت نوٹیفکیشن کے ذریعے دی گئی، اور اس میں واضح کیا گیا کہ لاہور میں بسنت کے دوران پتنگ بازی صرف مخصوص شرائط کے تحت اور ممنوعہ علاقوں سے ہٹ کر ہی کی جا سکے گی۔

تاریخ کا پس منظر بھی اہم ہے: بسنت 18 سال کی طویل پابندی کے بعد اس سال لاہور میں واپس آئی تھی۔ اس کی بنیاد پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 پر رکھی گئی، جسے 24 دسمبر 2025 کو منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ مخصوص دنوں اور مخصوص مقامات پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے سکیں، جبکہ پنجاب میں عمومی طور پر یہ سرگرمی اب بھی ممنوع ہے۔

مزید یہ کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اگست میں پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اگلی بسنت 12 سے 14 مارچ کو منائی جائے گی۔ اب لاہور ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے بعد یہ اعلان سرکاری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039268/lahore-dc-gives-formal-go-ahead-for-3-day-basant-festivities-in-march-2027-outlines-conditions-and-restrictions

عوامی اثرات

بسنت کی واپسی لاہور کے لیے صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک جذباتی اور سماجی معاملہ بھی ہے۔ بہت سے شہری اسے ثقافتی رنگ، سیاحت، کاروباری سرگرمی اور شہری خوشیوں کی واپسی کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے اس کے ساتھ محفوظ انتظامات، قانون کی پابندی اور جان و مال کے تحفظ کا سوال جڑا رہتا ہے۔ اسی لیے اس طرح کے فیصلے ہر بار بحث کو جنم دیتے ہیں۔

لاہور جیسے بڑے شہر میں جب کوئی تہوار دوبارہ سرکاری اجازت کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس کا اثر ٹریفک، سیکیورٹی، مقامی کاروبار، رہائشی علاقوں اور عوامی نظم و ضبط سب پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر چونکہ پتنگ بازی پنجاب میں عام طور پر ممنوع ہے، اس لیے شہریوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کہاں اجازت ہے، کہاں نہیں، اور کن شرائط کے ساتھ یہ سرگرمی کی جا سکتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا لاہور اس بسنت کو صرف رنگین تہوار کی طرح منائے گا یا اسے قواعد، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا؟ نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی ہر جگہ نہیں ہو سکے گی بلکہ صرف مقررہ حدود کے اندر ہوگی، اس لیے شہریوں کو انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

اگر آپ لاہور میں رہتے ہیں یا بسنت میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ممنوعہ زونز، اجازت شدہ مقامات اور حفاظتی ہدایات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایسے فیصلوں پر عوامی بحث بھی بنتی ہے: کیا بسنت کی واپسی لاہور کی ثقافت کو نئی زندگی دے گی یا پھر سخت نگرانی کے بغیر یہ ایک بار پھر مسئلہ بن جائے گی؟