مکمل تفصیلات
لاہور میں انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے جمعرات کے روز پی ٹی آئی رہنما حامد اظہر کا جسمانی ریمانڈ 12 روز کے لیے بڑھا دیا۔ یہ مقدمہ جِناح ہاؤس حملہ کیس سے متعلق ہے، جو 9 مئی کے فسادات کے بعد درج کیا گیا تھا۔
سرور روڈ پولیس نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران جِناح ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں کئی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ بنایا تھا۔ سماعت اے ٹی سی جج سردار محمد اکرم نے کی۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے ریمانڈ میں توسیع مانگی اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کو ملزم کا پولی گراف ٹیسٹ کرنا ہے۔ اسی سماعت میں یہ الزام بھی دہرایا گیا کہ حامد اظہر حملے کی قیادت کرنے والوں میں شامل تھے۔
دفاعی وکیل سکندر ذوالقرنین نے ریمانڈ بڑھانے کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق تفتیشی افسر نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کی ہے۔ وکیل نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سماعت پر پولیس نے باتن اور دیگر اشیا برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ یہ اشیا ابھی تک برآمد نہیں ہوئیں۔
تاریخ: جمعرات، 2026-10-15 22:06 PKT کے مطابق خبر شائع ہوئی۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037358/lahore-atc-extends-physical-remand-of-ptis-hammad-azhar
عوامی اثرات
یہ کیس صرف ایک سیاسی رہنما کے ریمانڈ تک محدود نہیں، بلکہ 9 مئی کے واقعات سے جڑے ان مقدمات کا حصہ ہے جنہوں نے ملک کی سیاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوامی رائے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ حامد اظہر جیسے مرکزی سیاسی چہرے پر الزام اور پھر عدالت میں ریمانڈ میں توسیع، پی ٹی آئی کے حامیوں اور مخالفین دونوں کے لیے ایک بڑا سیاسی اشارہ سمجھا جائے گا۔
عام شہریوں کے لیے ایسے مقدمات اس لیے اہم ہیں کہ ان سے یہ طے ہوتا ہے کہ بڑے ہنگاموں، حملوں اور توڑ پھوڑ کے الزامات میں تفتیش کس سمت جا رہی ہے اور عدالتیں کس بنیاد پر فیصلے دے رہی ہیں۔ جب ایک طرف پولیس مزید تفتیش اور پولی گراف ٹیسٹ کی بات کرے اور دوسری طرف دفاعی وکیل مؤقف میں تضاد کی نشاندہی کرے، تو پورے کیس کی ساکھ اور شفافیت عوامی بحث کا حصہ بن جاتی ہے۔
عمل یا حل
اب اگلا مرحلہ تفتیشی عمل اور عدالتی کارروائی ہے، جہاں پولیس کو اپنے دعوؤں کو مزید مضبوط شواہد کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، جبکہ دفاع کو بھی مؤقف، برآمدگی اور تفتیشی طریقہ کار پر سوال اٹھانے کا حق حاصل رہے گا۔ اس نوعیت کے سیاسی و فوجداری مقدمات میں ہر سماعت مستقبل کی سمت طے کرتی ہے، اس لیے ریمانڈ میں توسیع کو محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ کیس کی اگلی بڑی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مقدمہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے یا سیاسی تناؤ کے سائے میں؟ جب ایک ہی کیس میں پولیس کے بیانات اور برآمدگی کے دعوے بدلتے نظر آئیں، تو اعتماد کہاں سے آئے گا؟