مکمل تفصیلات

سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کو مالی سال 2010-11 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فنڈ کے تحت تقریباً 799.359 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ رقوم وفاقی سطح پر جاری ادائیگیوں اور صوبے کے لیے مختص اضافی حصے سے متعلق ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7ویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت کے پی کو ایف ڈی ٹی پی میں اضافی 1 فیصد حصہ بھی دیا جاتا ہے، جس سے صوبے کی وصولیاں بڑھتی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 2024-25 میں کے پی کو 112.2 ارب روپے ملے، جبکہ اس سے پہلے 128.2 ارب روپے کی ایک اور ادائیگی کا بھی ذکر ہے۔ اصل خبر Geo News نے 3 اکتوبر 2026 کو 09:13 PKT پر شائع کی، اور اس کا اصل لنک یہ ہے: https://www.geo.tv/latest/684805-kp-received-rs799359bn-under-war-on-terror-fund-since-2010-11-data-shows ۔ خبر کے ساتھ استعمال ہونے والی فائل فوٹو میں نوشہرہ کے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں 10 فروری 2023 کو انسدادِ دہشت گردی کی تربیت کے دوران پولیس اہلکار پوزیشنیں سنبھالتے دکھائے گئے تھے، جو اس پورے پس منظر کی سیکیورٹی نوعیت کو واضح کرتی ہے۔

عوامی اثرات

یہ خبر عام پاکستانیوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا خرچ صرف کاغذی معاملہ نہیں، بلکہ اس کا اثر پولیس، سڑکوں، اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور روزمرہ سیکیورٹی پر پڑتا ہے۔ خیبرپختونخوا نے سب سے زیادہ براہِ راست خطرہ جھیلا، اس لیے وہاں کی فنڈنگ پر سوال اٹھتے رہتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا، کتنا خرچ ہوا اور کتنا واقعی بحالی پر لگا۔

جب صوبے کو اتنی بڑی رقم جاری ہونے کا انکشاف سامنے آتا ہے تو عوام میں شفافیت، نگرانی اور کارکردگی کی بحث تیز ہو جاتی ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ رقوم واقعی پولیسنگ، متاثرہ علاقوں کی تعمیر، اور سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی پر لگیں یا نہیں۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف ایک مالی رپورٹ نہیں بلکہ اعتماد، جوابدہی اور وفاق-صوبہ تعلقات کا بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم کے باوجود خیبرپختونخوا میں امن، پولیسنگ اور انفراسٹرکچر کی صورتِ حال کہاں تک بہتر ہوئی؟ حکومتِ وقت، متعلقہ محکموں اور نگرانی کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ فنڈز کے استعمال کی مکمل اور آسان فہم تفصیل عوام کے سامنے رکھیں۔ ہر بڑی ادائیگی کے ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ رقم کن منصوبوں، اضلاع اور شعبوں پر خرچ ہوئی۔

اگر مقصد واقعی دہشت گردی کے اثرات کم کرنا تھا تو اب نتیجہ بھی دکھنا چاہیے: مضبوط پولیس، بہتر تربیت، بحال شدہ علاقے اور شفاف آڈٹ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر عوامی دباؤ ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کے بعد بھی کیا کے پی کو وہ سیکیورٹی اور بحالی ملی جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟