مکمل تفصیلات
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا قافلہ، جس کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں، ضلع خیبر پہنچا۔ وہاں انہوں نے احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف دہرایا کہ وہ خیبر پختونخوا میں مزید کسی فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ مارچ پی ٹی آئی کے بانی اور جیل میں قید عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس لانگ مارچ کا راستہ آغاز سے ہی تبدیل ہوتا رہا ہے۔ پہلے اعلان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ 8 اکتوبر کو اپنے قافلے کے ساتھ خیرہ آباد تک جانا تھا، جو پنجاب کے ضلع اٹک کی سرحد کے قریب واقع ہے، اور وہاں اگلا لائحہ عمل بتانا تھا۔ لیکن سہیل آفریدی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب مارچ سوابی تک جائے گا، جہاں اگلا منصوبہ سامنے لایا جائے گا۔
ڈان نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن عمر فاروق کے حوالے سے لکھا کہ حتمی منزل ابھی عارضی ہے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ مارچ جمعرات کو پشاور پہنچے گا اور کل رات چارسدہ میں قیام کرے گا۔ یہ وہی سیاسی مارچ ہے جس کے ذریعے پی ٹی آئی اپنے مرکزی مطالبے، یعنی عمران خان کی رہائی، کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035434/will-not-allow-military-operations-kp-cm-tells-march-participants-in-khyber
تاریخِ اشاعت: 2026-10-08 02:11 PKT
عوامی اثرات
یہ خبر صرف ایک سیاسی مارچ کی نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی، مرکز و صوبہ تعلقات، اور عوامی بے چینی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب کوئی وزیرِ اعلیٰ کھلے عام یہ کہے کہ وہ صوبے میں مزید فوجی آپریشن نہیں ہونے دے گا، تو اس کا اثر قبائلی اور سرحدی اضلاع کے رہنے والوں پر براہِ راست پڑتا ہے، جہاں ماضی میں آپریشن، نقل مکانی اور سکیورٹی خدشات بڑے مسائل رہے ہیں۔
دوسری طرف عمران خان کی رہائی کے لیے نکلنے والا یہ مارچ پی ٹی آئی کے کارکنوں، ہمدردوں اور سیاسی مخالفین سب کے لیے ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔ راستہ بدلتا رہنا، اگلی منزل کا بار بار تبدیل ہونا، اور پشاور و چارسدہ جیسے اہم مقامات کا شیڈول سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ تحریک اب محض احتجاج نہیں رہی بلکہ ایک جاری سیاسی دباؤ بن چکی ہے۔
عمل یا حل
اب دیکھنا یہ ہے کہ سوابی پہنچنے کے بعد سہیل آفریدی اگلا سیاسی قدم کیا اعلان کرتے ہیں اور کیا یہ لانگ مارچ مزید پھیلتا ہے یا کسی نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا سڑکوں پر دباؤ سے کوئی سیاسی پیش رفت ہوگی، یا یہ مارچ صرف مسلسل بدلتے روٹ اور بڑھتی کشیدگی تک محدود رہے گا؟
عوام کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسی ہر پیش رفت کو جذبات کے ساتھ نہیں بلکہ حقائق کے ساتھ دیکھا جائے: کہاں قافلہ جا رہا ہے، کس نے کیا اعلان کیا، اور اس کے زمینی اثرات کیا ہوں گے۔ اگر آپ کے نزدیک خیبر میں مزید آپریشن کی مخالفت درست ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ سکیورٹی اور امن کا متبادل راستہ کیا ہوگا؟ اور اگر آپ سیاسی دباؤ کے اس طریقے سے اتفاق نہیں کرتے تو پھر عوامی مطالبات سننے کا مؤثر راستہ کون سا ہے؟