مکمل تفصیلات

یہ ادارتی تحریر Dawn - Pakistan میں 20 ستمبر 2026، دوپہر 14:13 PKT پر شائع ہوئی۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2031174/editorial-kohat-attack-a-reminder-of-a-growing-threat-that-calls-for-better-equipped-police-counterterrorism-policy-review

اداریے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کُہات میں ہونے والا حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے بڑھتے ہوئے خطرے کی علامت ہے جو ملک کے سیکیورٹی ڈھانچے کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے۔ متن کے مطابق اس قسم کے حملے واضح کرتے ہیں کہ پولیس کو جدید وسائل، بہتر تربیت، اور فوری ردعمل کی صلاحیت کے بغیر فرنٹ لائن پر چھوڑ دینا خطرناک ہے۔

تحریر میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے موجودہ طریقۂ کار پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے، کیونکہ صرف ردعمل پر مبنی حکمتِ عملی کافی نہیں۔ ریاستی اداروں کو مقامی سطح پر انٹیلی جنس، کوآرڈینیشن اور عملی تیاری بہتر بنانی ہوگی تاکہ ایسے حملوں کو روکا جا سکے اور شہریوں کا اعتماد بحال ہو۔

عوامی اثرات

اس اداریے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ کُہات کا حملہ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے ملک میں عدمِ تحفظ کا احساس بڑھاتا ہے۔ جب پولیس ہی مناسب سازوسامان اور تیاری کے بغیر نشانہ بنے، تو عام شہریوں کے لیے بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ ریاستی حفاظتی ڈھانچہ کمزور پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی اور سیکیورٹی کے واقعات پر عوام پہلے ہی حساس ہیں، اس لیے ایسے حملوں کے بعد اعتماد، خوف اور بے یقینی تینوں بڑھ جاتے ہیں۔ اس اداریے کا عوامی اثر یہی ہے کہ یہ بحث دوبارہ زندہ کرتا ہے کہ پولیس کو صرف اعلانات نہیں، حقیقی طاقت، تربیت اور وسائل چاہیے تاکہ وہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکے۔

عمل یا حل

اس معاملے میں پہلا عملی قدم یہ ہے کہ پولیس فورسز کو جدید ہتھیار، مواصلاتی نظام، حفاظتی سازوسامان اور فوری رسپانس یونٹس دیے جائیں۔ ساتھ ہی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کو کاغذی سطح سے نکال کر زمینی حقیقتوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے، تاکہ مقامی خطرات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل تیاری ایک ہی سمت میں چلیں۔

دوسرا ضروری قدم یہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر سیکیورٹی اداروں کے درمیان واضح رابطہ اور جوابدہی کا نظام بنایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر حملے کے بعد صرف افسوس کریں گے، یا پولیس اور پالیسی دونوں کو واقعی اس قابل بنائیں گے کہ وہ اگلا حملہ روک سکیں؟