مکمل تفصیلات
ڈان - Home کے مطابق دفاعی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے جمعہ کے روز انٹرنیٹ پر ہونے والی چھیڑ چھاڑ اور ٹرولنگ کو نظرانداز کیا، جو انہیں ایک اے آئی سے بنائی گئی مارلن منرو کی تصویر والے معمہ پر ردعمل دینے کے بعد سامنا کرنا پڑی۔ یہ معاملہ منگل کو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے پلیٹ فارم X پر ایک ایسی پوسٹ دوبارہ شیئر کی، جس میں ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ مارلن منرو کی 50 کی دہائی کے انداز کی اے آئی تصویر تھی اور صارفین سے کہا گیا تھا کہ اس میں وہ چیز بتائیں جو تصویر میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔ خواجہ آصف نے جواب میں بتایا کہ تصویر میں منرو کے ہاتھ میں اسمارٹ واچ موجود ہے۔
بعد ازاں اصل پوسٹ حذف کر دی گئی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ کے مناسب ہونے پر سوال اٹھائے، جبکہ بھارتی میڈیا نے بھی ان کی آن لائن سرگرمیوں پر مضامین شائع کیے۔ جمعہ کو جیو نیوز کے پروگرام 'نیا پاکستان' میں ان سے اسی پوسٹ اور اس سوال پر بات کی گئی کہ کیا وہ اپنا X اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں۔
تاریخ: منگل کو ابتدائی پوسٹ، جمعہ کو ٹی وی پروگرام میں ردعمل
جگہ/پلیٹ فارم: X، جیو نیوز پروگرام 'نیا پاکستان'
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037620/i-am-a-normal-human-being-khawaja-asif-brushes-off-online-trolling-over-ai-generated-marilyn-monroe-riddle
پروگرام کے دوران خواجہ آصف نے واضح کیا کہ وہ اپنا اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں اور خود کو غیر معمولی شخصیت نہیں بلکہ ایک عام انسان سمجھتے ہیں۔ اسی بیان نے معاملے کو مزید وائرل بنا دیا، کیونکہ ایک طرف دفاعی وزیر کی سوشل میڈیا سرگرمی زیر بحث رہی اور دوسری طرف ان کے جواب نے سیاسی و آن لائن گفتگو کو مزید تیز کر دیا۔
عوامی اثرات
یہ خبر اس لیے وائرل ہوئی کہ اس میں ایک وفاقی وزیر، سوشل میڈیا، اے آئی تصویر اور مشہور ہالی ووڈ شخصیت سب ایک ہی واقعے میں آ گئے۔ پاکستان میں جب کوئی بڑی سیاسی شخصیت آن لائن کوئی غیر روایتی یا ہلکی پھلکی پوسٹ کرتی ہے تو اس پر صرف مذاق نہیں بنتا، بلکہ سیاسی سنجیدگی، سرکاری منصب اور عوامی رویے پر بھی بحث چھڑ جاتی ہے۔
خواجہ آصف کا یہ جواب کہ وہ اپنا اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں، عام صارفین کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ عوام اکثر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سیاست دان سوشل میڈیا خود استعمال کرتے ہیں یا ٹیم کے ذریعے۔ اس واقعے نے یہ بھی دکھایا کہ اے آئی مواد اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ ایک معمولی سی غلطی یا دلچسپ نکتہ بھی بڑے سیاسی و میڈیا ردعمل میں بدل سکتا ہے۔
عمل یا حل
اس واقعے سے ایک عملی سبق یہ نکلتا ہے کہ عوامی عہدے دار جب سوشل میڈیا پر سرگرم ہوں تو ہر پوسٹ، ری شیئر اور تبصرہ فوراً سیاسی معنی اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے ذمہ دارانہ آن لائن رویہ، سیاق و سباق کی جانچ اور اے آئی سے بنی تصاویر کے بارے میں احتیاط پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
دوسری طرف یہ بحث بھی اہم ہے کہ اگر ایک وزیر خود اپنا اکاؤنٹ چلاتا ہے تو اسے اپنی آن لائن موجودگی اور عوامی توقعات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستانی سیاست میں اب سوشل میڈیا بھی وزارت جتنا سنجیدہ محاذ بن چکا ہے، یا پھر یہ صرف ایک وائرل مذاق تھا جسے غیر ضروری طور پر بڑا بنا دیا گیا؟