عوامی اثرات

خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکاروں پر مسلسل ہونے والے یہ ٹارگٹڈ حملے محض سیکیورٹی کی ناکامی نہیں بلکہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلوں پر براہِ راست وار ہیں۔ ضلع کرک جیسے بالعموم پرامن سمجھے جانے والے علاقے میں پولیس کی گاڑی کو یوں کھلے عام نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر اب صوبے کے ہر حصے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی شہریوں کو شدید خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں لوگ اب اپنے روزمرہ کے معمولات کے حوالے سے بھی خوفزدہ ہیں۔

دوسری جانب، ہر لمحہ فرنٹ لائن پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے اندر بے چینی اور تشویش کی لہر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب صوبے کے محافظ ہی اپنے گشت کے دوران محفوظ نہیں ہوں گے تو عام شہری کس سے تحفظ کی امید رکھیں۔ عوام اب یہ تلخ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر کب تک ہمارے جوانوں کی قربانیوں کو محض تعزیتی بیانات کا حصہ بنایا جاتا رہے گا اور کیا ان واقعات کا کوئی مستقل سدباب ممکن بھی ہے یا نہیں؟

عمل یا حل

اس بڑھتے ہوئے فتنے سے نمٹنے کے لیے اب محض روایتی مذمتی بیانات اور وقتی سرچ آپریشنز کافی نہیں ہوں گے، بلکہ سیکیورٹی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی اور فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پولیس کو نہ صرف جدید ترین اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور رات کے وقت دیکھنے والے آلات فراہم کیے جائیں، بلکہ خفیہ اطلاعات کے نظام یعنی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بھی نچلی سطح پر حد درجہ فعال کرنا ہوگا۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو باہمی سیاست کو پاسِ پشت ڈال کر پولیس فورس کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے فوری وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور خفیہ پناہ گاہوں کا مکمل قلع قمع کرنا لازمی ہو چکا ہے۔ جب تک اس زنجیر کی تمام کڑیوں کو نہیں توڑا جائے گا، ہمارے محافظ یوں ہی آسان ہدف بنتے رہیں گے۔ کیا آپ کے خیال میں پولیس فورس کی اس بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی اصل وجہ وسائل کی کمی ہے یا سیاسی ترجیحات کا نہ ہونا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔