عوامی اثرات
کراچی کے شہریوں کے لیے بارش کی ہر پیشگوئی خوشی کے بجائے ایک خوفناک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی 14 ستمبر سے بارشوں کا الرٹ جاری ہوا، شہریوں میں ایک بار پھر وہی پرانے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونا، بدترین ٹریفک جام، کرنٹ لگنے کے واقعات اور بجلی کی گھنٹوں طویل بندش وہ تلخ حقیقتیں ہیں جن کا سامنا کراچی کے غریب اور متوسط طبقے کو ہر سال کرنا پڑتا ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، موٹر سائیکل سواروں اور نوکری پیشہ افراد کے لیے یہ موسم شدید ذہنی اور مالی اذیت کا باعث بنتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا سماجی پہلو یہ ہے کہ بارش ہوتے ہی شہر کا پورا انفراسٹرکچر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ نکاسی آب کا ناکارہ نظام اور نالوں کی صفائی میں تاخیر جیسے مسائل نے ہمیشہ سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ انتظامیہ صرف کاغذوں پر الرٹ جاری کرتی ہے جبکہ عملی طور پر سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، جس سے شہریوں کا غصہ اور مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے۔
عمل یا حل
صرف کاغذی الرٹ جاری کرنے اور ہنگامی اجلاس بلانے سے کراچی کو ڈوبنے سے نہیں بچایا جا سکتا۔ سندھ حکومت اور پی ڈی ایم اے کو فوری طور پر نالوں کی صفائی مکمل کرنی چاہیے اور شہر کے نشیبی علاقوں میں ہیوی ڈی واٹرنگ پمپس کی موجودگی کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کے الیکٹرک کو بھی سخت پابند کیا جائے کہ وہ تاروں کی مرمت کرے تاکہ کرنٹ لگنے سے قیمتی انسانی جانوں کا زیاں روکا جا سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ صرف سنسنی پھیلانے کے بجائے انتظامیہ کی خامیوں کو بے نقاب کرے اور عوام کو حفاظتی تدابیر سے آگاہ کرے۔
مستقبل میں اس مستقل عذاب سے بچنے کا واحد حل کراچی کے نکاسی آب کے نظام کی مکمل اور جدید خطوط پر ازسرنو تعمیر ہے۔ جب تک مئیر کراچی اور صوبائی حکومت مل کر لانگ ٹرم پلاننگ نہیں کریں گے، تب تک ہر سال کروڑوں کا بجٹ یوں ہی پانی میں بہتا رہے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار سندھ انتظامیہ واقعی الرٹ ہے یا ہمیشہ کی طرح پہلی ہی بارش کراچی کا پول کھول دے گی؟ آپ کو کیا لگتا ہے، کیا کراچی کی سڑکیں اس بار بھی تالاب بنیں گی؟