مکمل تفصیلات

اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی سروس شِن بیت نے اس ٹی وی چینل کے خلاف چیف ملٹری سنسر کے پاس شکایت جمع کرائی ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو متحدہ عرب امارات گئے تھے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ شِن بیت نے چینل 12 کے خلاف “سخت سنسرشپ خلاف ورزی” پر مکمل قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دفتر شِن بیت کی نگرانی بھی کرتا ہے، اس لیے یہ شکایت خود حکومت کے اندر سے سامنے آئی ہے۔

اتوار کو چینل 12 اور دیگر اسرائیلی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے خلیجی ملک کا دورہ کیا اور صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ تاہم نہ اسرائیل اور نہ ہی یو اے ای نے اس دورے کی تصدیق کی۔ پیر کی وضاحت کو اسرائیل کی طرف سے اس سفر کے بارے میں پہلی سرکاری نوعیت کی تسلیم شدہ بات قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ اس میں منزل کا نام نہیں لیا گیا۔

تاریخ: پیر، 2026-09-29 (رپورٹ شائع: 2026-09-29 04:53 PKT)
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033325/israel-security-agency-files-complaint-over-report-netanyahu-visited-uae

یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا جب چند ہفتے پہلے اسرائیلی میڈیا میں ایک اور تہلکہ خیز رپورٹ آئی تھی کہ اماراتی صدر نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا، تاہم اس دعوے پر بھی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک سفارتی دورے کی نہیں بلکہ اسرائیل کے اندر میڈیا، سنسرشپ اور ریاستی بیانیے کے ٹکراؤ کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ جب ایک ملک کی خفیہ سروس خود ایک ٹی وی چینل کے خلاف شکایت کرے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خبر کا معاملہ کتنا حساس تھا اور ریاست اسے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔

پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، اسرائیل-یو اے ای تعلقات، اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد کے حالات براہِ راست خطے کی سیکیورٹی، سفارت کاری اور مسلم دنیا کے اندر جذبات پر اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے دورے اگر خفیہ رہیں یا ان پر تنازع کھڑا ہو تو اس کا اثر آئندہ مذاکرات اور علاقائی اتحادوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

عمل یا حل

اس کیس میں فوری سوال یہ ہے کہ آیا میڈیا نے ایک حساس مگر اہم خبر شائع کر کے سنسرشپ کی حدیں توڑیں، یا ریاستی ادارے عوامی حقِ اطلاع کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ اسرائیل اور یو اے ای دونوں نے اس دورے کی تصدیق نہیں کی، اس لیے اب بھی بہت سے پہلو غیر واضح ہیں، اور مزید باضابطہ وضاحت ہی اصل تصویر سامنے لا سکتی ہے۔

آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ چیف ملٹری سنسر، چینل 12، اور شِن بیت کے درمیان کیا قانونی کارروائی آگے بڑھتی ہے۔ کیا یہ معاملہ صرف ایک خبر کی اشاعت تک محدود رہے گا یا اس سے اسرائیلی میڈیا اور ریاستی اداروں کے تعلقات پر نئی بحث چھڑ جائے گی؟ یہی وہ سوال ہے جو اس خبر کو صرف سفارتی نہیں بلکہ سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بناتا ہے۔