مکمل تفصیلات

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ہفتے کے روز افغان طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ان کے پاس دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے کی ’’صلاحیتیں‘‘ نہیں ہیں۔ وزارت نے کہا کہ افغان طالبان اصل مسئلے سے ہٹ کر ’’منحرف کرنے والے الزامات‘‘ لگا رہے ہیں، جبکہ انہیں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے پر توجہ دینی چاہیے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب افغان طالبان کے عبوری انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کی رات X پر ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کے لیے پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا یا وہاں کسی قسم کے عدم استحکام کی حمایت کرنا مفاد میں نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان کے پاس دوسرے ممالک میں بدامنی بھڑکانے یا اسے مالی طور پر سہارا دینے کے وسائل اور صلاحیت نہیں، اور اسلام آباد کے ’’غلط فہمی پر مبنی رویے‘‘ نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹایا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039485/islamabad-rebuts-kabuls-stance-on-lacking-capacity-to-fuel-insecurity-in-pakistan-slams-diversionary-allegations

تاریخ: ہفتہ، 2026-10-25 03:41 PKT کے مطابق خبر شائع ہوئی۔ یہ تنازع اس لیے اہم ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے حملوں اور سرحد پار سکیورٹی خدشات کا معاملہ اٹھاتا آیا ہے، جبکہ کابل بار بار ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

عوامی اثرات

اس خبر کا اثر صرف دو حکومتوں کے بیانات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق پاکستان کے اندر سکیورٹی، سرحدی اعتماد اور دہشت گردی کے خدشات سے ہے۔ جب اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے پر الزام یا دفاعی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو اس کا اثر سرحدی علاقوں، سکیورٹی اداروں اور عام شہریوں کے احساسِ تحفظ پر پڑتا ہے۔

پاکستانی عوام کے لیے یہ معاملہ اس لیے حساس ہے کہ ہر نئی کشیدگی کے ساتھ حملوں، جوابی اقدامات، سفارتی سرد مہری اور سرحدی دباؤ کا خدشہ بڑھتا ہے۔ دوسری طرف افغان قیادت کی تردید اور پاکستان کی سخت زبان یہ دکھاتی ہے کہ دونوں فریق ایک ہی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، اور یہی اختلاف خطے میں عدم استحکام کو لمبا کر سکتا ہے۔

عمل یا حل

اس صورتحال میں اصل ضرورت بیانات کی جنگ سے نکل کر ٹھوس سکیورٹی اقدامات اور قابلِ تصدیق تعاون کی ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین واقعی کسی دہشت گرد نیٹ ورک کے استعمال میں آ رہی ہے تو اسے روکنا کابل کی ذمہ داری ہے، اور اگر پاکستان کے خدشات غلط ہیں تو شفاف طریقے سے ان کی تردید اور عملی یقین دہانی ضروری ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلیجنس تعاون اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح کارروائی ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد اور کابل الزام تراشی سے آگے بڑھ کر مشترکہ سکیورٹی فریم ورک بنا سکتے ہیں، یا یہ معاملہ مزید سخت بیانات اور کشیدگی کی نذر ہوتا رہے گا؟