عوامی اثرات
سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ کی ہر نئی لہر کے ساتھ پاکستان کے عام شہری اور کاروباری طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں انتظامیہ کی طرف سے راستے بند کرنے کے لیے نجی مالکان کی بڑی بڑی گاڑیاں اور کنٹینرز زبردستی تحویل میں لینا ایک ایسا سلسلہ بن چکا ہے جو ملک کی سپلائی چین کو یکسر مفلوج کر دیتا ہے۔ جب غذائی اجناس، دوائیاں اور دیگر ضروری اشیاء لے جانے والے شاہرائیں بند ہو جاتی ہیں تو عام بازاروں میں مہنگائی کا نیا طوفان جنم لیتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، ان کنٹینرز کے ساتھ منسلک ڈرائیورز اور کلینرز شدید موسم میں سڑکوں پر بے یارو مددگار پھنس جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کھانے پینے کی مناسب سہولیات ہوتی ہیں اور نہ ہی سلامتی کی کوئی ضمانت۔ سیاسی طاقت کے مظاہرے اور حکومتی رکاوٹوں کی اس کشمکش میں معاشی پہیہ رک جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی سے زیادہ ہنگامی تدابیر اور سیاسی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، جو معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔
عمل یا حل
اس مسئلے کا مستقل حل صرف اور صرف آئینی حدود اور قانونی ضوابط کی پاسداری میں مضمر ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ سیاسی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے شہریوں یا ٹرانسپورٹرز کے ذاتی اثاثوں کو زبردستی استعمال کرنے کے بجائے متبادل سیکیورٹی حکمتِ عملی اپنائیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ جیسے اہم معاشی شعبے کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ ملکی تجارت اور ضروری اشیاء کی نقل وحرکت متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب، تمام سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاج کا ایسا پرامن راستہ اختیار کریں جس سے عام عوام کے روزمرہ معمولات زندگی اور روزگار میں خلل نہ پڑے۔ عدالت عالیہ کا اس معاملے پر بڑا بینچ بنانا ایک اہم قدم ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ بھی سیاسی کشمکش کا خمیازہ یوں ہی کاروباری طبقے کو بھگتنا پڑے گا؟ کیا وفاقی حکومت کو سیاسی جلسوں سے نمٹنے کے لیے نجی کنٹینرز کے استعمال کی پالیسی اب ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر دینی چاہیے؟