مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NH&MP) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایم-1 موٹروے، جو اسلام آباد کو پشاور سے ملاتی ہے، اب دونوں سمتوں میں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے ایم-1، ایم-14 (اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے) کے کچھ حصے اور جی ٹی روڈ/این-5 کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا گیا تھا۔ یہ پابندیاں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے سخت حکومتی ردعمل کے پس منظر میں لگائی گئی تھیں، جس کی ابتدائی تاریخ 27 ستمبر تھی اور بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ایم-14 پر ہکلہ اور کنڈل کے درمیان مرمت اور بحالی کا کام ابھی جاری ہے۔ اسی طرح ایم-1 کو ہازارہ موٹروے سے ملانے والے لوپ پر بھی کام چل رہا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد سے ایبٹ آباد جانے والی ٹریفک برہان انٹرچینج سے نکل کر حسن ابدال کے راستے جی ٹی روڈ استعمال کرے اور پھر جھری کاس انٹرچینج کے ذریعے ہازارہ ایکسپریس وے میں دوبارہ شامل ہو جائے۔

تاریخ: پیر، 2026-09-28
وقت: 14:59 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033234/islamabad-peshawar-motorway-restored-for-traffic-following-indefinite-closure
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

یہ فیصلہ ہزاروں روزانہ سفر کرنے والے مسافروں، ٹرانسپورٹرز، مال بردار گاڑیوں اور شمالی و مغربی پاکستان کے درمیان رابطہ رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم ہے۔ ایم-1 اور جی ٹی روڈ کی بندش سے نہ صرف سفر کا وقت بڑھتا ہے بلکہ ایندھن، لاگت اور ذہنی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر جب خاندان، دفاتر، کاروبار اور تعلیمی سفر ایک ہی شاہراہوں پر انحصار کرتے ہوں۔

اس خبر کی سیاسی اہمیت بھی کم نہیں، کیونکہ موٹروے کی بندش اور بحالی براہِ راست احتجاجی سیاست، سیکیورٹی اقدامات اور شہری نقل و حرکت کے درمیان ٹکراؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ عوام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے دوران معمولاتِ زندگی کو کم سے کم کس طرح متاثر رکھا جائے۔

عمل یا حل

اگر آپ اسلام آباد، پشاور، ایبٹ آباد یا ہازارہ روٹ پر سفر کر رہے ہیں تو نکلنے سے پہلے تازہ ٹریفک صورتحال ضرور چیک کریں، خاص طور پر ایم-14 اور ہازارہ موٹروے کے رابطہ پوائنٹس کے بارے میں۔ موٹروے پولیس کے مطابق برہان انٹرچینج، حسن ابدال، جھری کاس انٹرچینج اور ہازارہ ایکسپریس وے والا متبادل راستہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے اسی روٹ پلان پر سفر ترتیب دیں۔

یہ معاملہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ سیاسی دباؤ، سیکیورٹی اور عوامی سہولت کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ سڑکیں بند ہونے سے نقصان عام شہری کو ہوتا ہے، جبکہ فیصلہ ساز اپنی سیاست کرتے رہتے ہیں۔ آپ کے خیال میں احتجاج کے دوران اہم شاہراہیں بند ہونی چاہئیں یا متبادل انتظام پہلے سے لازمی ہونا چاہیے؟