مکمل تفصیلات
اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 50 سے زائد پاکستانیوں کی بیرونِ ملک گمشدگی کے معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ یہ درخواست افضال حسین نے دائر کی، جن کی نمائندگی وکیل شفقات عباس تارڑ کر رہے ہیں۔ سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل (AAG) کو ہدایت دی کہ معاملے کا جائزہ لے کر اگلی سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں۔
درخواست گزار کا تعلق ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ سے ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران علاقے کے 50 سے زائد نوجوان بیرونِ ملک گئے، مگر ان کے بارے میں آج تک کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ نوجوان مبینہ طور پر غیر روایتی طریقوں سے باہر گئے تھے اور روانگی کے بعد ان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
تاریخ: 2 نومبر کو اگلی سماعت مقرر کی گئی ہے۔
جگہ: اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035232/islamabad-high-court-seeks-whereabouts-of-over-50-pakistanis-who-went-missing-abroad
درخواست میں وزارتِ خارجہ سے بھی مداخلت اور کارروائی کی استدعا کی گئی ہے تاکہ گمشدہ افراد کا پتہ چلایا جا سکے اور انہیں محفوظ طور پر واپس لایا جا سکے۔
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک علاقے کی فیملی تک محدود نہیں، بلکہ ان تمام پاکستانی گھرانوں سے جڑا ہے جن کے بچے روزگار، بہتر مستقبل یا کسی مجبوری کے تحت ملک سے باہر گئے اور پھر رابطہ ٹوٹ گیا۔ ایسے کیسز میں خاندان مہینوں اور برسوں تک بے یقینی، خوف اور مالی دباؤ میں رہتے ہیں، کیونکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے پیارے زندہ ہیں، کسی مشکل میں ہیں یا کسی غیر قانونی راستے کے نتیجے میں پھنس گئے ہیں۔
بیرونِ ملک گمشدگی کے کیسز ریاستی اداروں، سفارتی رابطوں اور انسانی تحفظ کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ اگر یہ نوجوان واقعی غیر روایتی طریقوں سے گئے تھے تو اس سے انسانی سمگلنگ، جعلی ایجنٹوں اور کمزور نگرانی کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ اس میں روزگار کی تلاش، ہجرت کا خطرہ اور ریاستی ذمہ داری تینوں ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
عمل یا حل
اب اگلا مرحلہ حکومت، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے واضح رپورٹ اور عملی کارروائی ہے۔ عدالت نے 2 نومبر تک جواب مانگا ہے، اس لیے اس سماعت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کن ممالک سے رابطہ کیا گیا، کس سطح پر سفارتی مدد لی گئی، اور لاپتہ افراد کی شناخت و سراغ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ اگر واقعی یہ نوجوان مختلف ممالک میں ہیں تو ان تک قونصلر رسائی، مقامی حکام سے رابطہ اور خاندانوں کو باقاعدہ اپڈیٹ دینا فوری ضرورت ہے۔
دوسری طرف، ایسے کیسز میں صرف عدالتی کارروائی کافی نہیں ہوتی؛ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس، غیر قانونی ایجنٹس اور دھوکے سے بیرونِ ملک بھجوانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ان خاندانوں کو صرف انتظار میں رکھے گی یا واقعی ان کے بچوں کا سراغ لگا کر انہیں محفوظ واپس لائے گی؟