مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے ہفتے کے روز جیل حکام سے وضاحت طلب کی کہ عدالتی حکم کے باوجود انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر حادی علی چھٹہ کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ مقدمہ انگلش کرکٹ ٹیم کے لیے لگائی گئی سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق ہے۔

اے ٹی سی نے منگل کے روز دونوں پر اسی کیس میں فردِ جرم عائد کی تھی۔ دونوں نے الزامات کی تشکیل کی مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ انہیں کیس ریکارڈ کی نقول نہیں دی گئیں اور نہ ہی اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت ملی۔ سماعت اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کی۔

سماعت کے آغاز پر دونوں ملزمان پیش نہیں کیے گئے، اور جیل انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا جو ان کی عدم پیشی کی وجہ بتاتا۔ اس پر جج نے پراسیکیوشن اور پولیس حکام کو ہدایت دی کہ وہ جیل حکام سے فون پر رابطہ کرکے غیر حاضری کی وجہ معلوم کریں، اور ساتھ ہی تحریری جواب بھی طلب کیا۔

تاریخ: ہفتہ، 2026-10-10
وقتِ اشاعت: 17:56 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036142/islamabad-atc-seeks-report-on-failure-to-produce-imaan-hadi-in-security-breach-case
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

یہ کیس صرف دو افراد کی عدالت میں پیشی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے عدالتی عمل، قیدیوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کی جواب دہی پر بڑا سوال اٹھتا ہے۔ جب عدالت خود کسی ملزم کو طلب کرے اور جیل حکام اسے پیش نہ کریں تو عام شہریوں کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر حکمِ عدالت کی اصل حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔

ایمان مزاری ایک معروف انسانی حقوق کی وکیل ہیں، اس لیے اس مقدمے نے پہلے ہی توجہ حاصل کر لی ہے۔ دوسری طرف، کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی سے جڑا معاملہ ہونے کی وجہ سے اس کیس میں عوامی دلچسپی اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسے مقدمات میں شفافیت، دستاویزات تک رسائی اور وکلا سے ملاقات کا حق صرف ملزمان کا نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

عمل یا حل

اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ جیل حکام اپنی غیر حاضری کی وجہ تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائیں اور یہ واضح کریں کہ عدالتی حکم کے باوجود پیشی کیوں ممکن نہ ہو سکی۔ ساتھ ہی عدالت نے پولیس اور پراسیکیوشن کو بھی فعال کردار ادا کرنے کا کہا ہے، اس لیے اب معاملہ صرف تاریخ ڈالنے سے آگے جانا چاہیے۔

یہ کیس پاکستان میں اس بحث کو پھر زندہ کرتا ہے کہ کیا زیرِ حراست افراد کو واقعی وہ قانونی سہولتیں ملتی ہیں جن کا قانون میں وعدہ کیا گیا ہے؟ اگر عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد نہ ہو تو نہ صرف مقدمہ طول پکڑتا ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے: جب عدالت نے بلایا تھا تو پیشی کیوں نہ ہوئی؟