مکمل تفصیلات

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز بھارت کے اس مؤقف کو سختی سے رد کیا کہ وہ اپنی مرضی سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔

تاریخ کے مطابق بھارت نے اپریل 2024 میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا تھا۔ اس کے بعد مئی 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان مختصر فوجی جھڑپ ہوئی۔ پھر اگست میں مستقل عدالتِ ثالثی (Permanent Court of Arbitration) نے فیصلہ دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کے پاس اسے ختم یا معطل کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ اس فیصلے کو نئی دہلی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032046/india-cannot-set-aside-international-obligations-when-they-become-inconvenient-says-dar-on-new-delhis-unilateral-move-against-iwt

اسحاق ڈار کا مؤقف اس لیے اہم ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے پانی، زرعی مستقبل اور علاقائی سلامتی کا حساس معاملہ ہے۔ بھارت کی یکطرفہ کارروائی اور بعد میں عدالتِ ثالثی کا فیصلہ اس تنازع کو صرف سفارتی نہیں بلکہ قانونی اور قومی سطح کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔

عوامی اثرات

یہ خبر براہِ راست پاکستان کے عام شہری، کسان، پانی کے نظام اور ریاستی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے، اس لیے اس پر کوئی بھی یکطرفہ قدم پاکستان میں پانی کی دستیابی، زراعت، فصلوں اور دیہی معیشت پر خوف اور بے یقینی بڑھا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس معاملے پر ہر قانونی فیصلہ عوامی زندگی سے جڑ جاتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پہلے ہی خطے کو غیر یقینی میں رکھتی ہے، اور جب پانی جیسے حساس معاملے پر تنازع بڑھے تو اس کا اثر صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا عالمی معاہدوں کو طاقت کے زور پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے، یا پھر بین الاقوامی قانون واقعی کمزور ملکوں کے لیے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

عمل یا حل

اس معاملے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم راستہ قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ مستقل عدالتِ ثالثی کے فیصلے نے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، مگر اصل امتحان اس فیصلے کو عملی اور سفارتی سطح پر مؤثر رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کو پانی کے انتظام، ذخیرہ سازی اور اندرونی منصوبہ بندی پر بھی سنجیدہ توجہ دینا ہوگی تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ کا اثر کم ہو سکے۔

عوامی سطح پر بھی یہ بحث ضروری ہے کہ جب ایک ہمسایہ ملک اپنی مرضی سے معاہدے معطل کرنے لگے تو کیا دنیا کے قوانین واقعی سب کے لیے برابر ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر کمزور ریاستیں اپنے حق کے لیے کس حد تک عالمی نظام پر انحصار کر سکتی ہیں؟