عوامی اثرات

پاکستانی معاشرے میں، جہاں مذہبی اور اخلاقی اقدار کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، انسانی تخلیق اور جینیاتی انجینئرنگ میں اس قسم کی مداخلت کو ہمیشہ شدید تشویش اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ "ڈیزائنر بیبیز" کی تیاری یا جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کے نام پر انسانی ڈی این اے کے ساتھ یہ سائنسی کھیل عام شہریوں اور مذہبی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر سکتا ہے۔ جینیاتی تبدیلیوں کے غیر متوقع اور بے قابو اثرات کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو عام کیا گیا، تو یہ انسانی نسل کو ایسے نئے اور لاعلاج امراض میں دھکیل سکتی ہے جن کا تصور بھی ناممکن ہے۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے کہ کیا سائنسدانوں کو انسانی نسل کے بنیادی جینیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے؟ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں صحت کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی کمزور ہے، اس قسم کی غیر مادی سائنسی مداخلتیں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جینیاتی خرابیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہو سکتی ہیں۔ لوگ اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا سائنس واقعی انسانیت کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے یا پھر غیر ارادی طور پر کسی بڑی جینیاتی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

عمل یا حل

عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے پالیسی سازوں کو اس انتہائی حساس معاملے پر فوری اور سخت ترین قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک جینیاتی تبدیلی کی یہ ٹیکنالوجیز سو فیصد محفوظ اور قابلِ پیش گوئی نہیں ہو جاتیں، تب تک انسانی ایمبریو پر کسی بھی قسم کے تجربات پر مکمل عالمی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ پاکستان کی طبی تحقیقی کونسل اور وزارتِ صحت کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے اخلاقی رہنما اصول تیار کرنے چاہئیں جو انسانی جان اور جینیاتی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔

میڈیا اور علمی حلقوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس پیچیدہ سائنسی موضوع پر عوامی سطح پر بحث کا آغاز کریں تاکہ عوام سائنسی ترقی کے منفی پہلوؤں اور خطرات سے باخبر رہ سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے اندر بائیو ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق کے شعبوں کی کڑی نگرانی کرے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی تجربہ یہاں نہ دہرایا جا سکے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیماریوں سے بچنے کے لیے انسانی ڈی این اے میں تبدیلی کی سائنسی کوششیں جائز ہیں، یا یہ قدرت کے فیصلوں میں ایک ایسی مداخلت ہے جس کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑے گا؟