عوامی اثرات
باب المندب کے اس اسٹریٹجک خطے پر جاری خونریز جنگ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست اور تباہ کن اثر پاکستان کی نازک معیشت اور عام شہری کی جیب پر پڑ سکتا ہے۔ دنیا کے خام تیل کی نقل و حمل اور بین الاقوامی مال بردار جہازوں کی ایک بڑی تعداد اسی تنگ راستے سے گزرتی ہے۔ اگر حوثی جنگجوؤں کے حملوں اور جھڑپوں کی وجہ سے یہ سمندری راستہ غیر محفوظ ہوتا ہے یا جہاز رانی کا نظام مفلوج ہوتا ہے، تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم آسمان کو چھونے لگیں گی، جس کا براہ راست اثر پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں ہولناک اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔
اس کے علاوہ، پاکستان کی ایک بڑی لیبر فورس اور تارکین وطن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔ خطے میں سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال اور سعودی عرب کے سرحدوں کے قریب شدت پسندانہ کارروائیاں وہاں موجود پاکستانی برادری کے روزگار اور تحفظ کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔ اگر بحیرہ احمر کا یہ تجارتی راستہ متاثر ہوتا ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خورونوش اور بین الاقوامی سامانِ تجارت کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، جس سے پہلے سے مہنگائی کے مارے پاکستانی عوام پر مزید معاشی بوجھ پڑے گا۔
عمل یا حل
اس بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتوں کو فوری اور موثر سفارتی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ باب المندب جیسے اہم عالمی راستے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور مزید معصوم انسانوں کا ضیاع روکا جائے۔ محض فوجی جوابی کارروائیاں مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہیں بلکہ یمن کے تنازع کا ایک پائیدار سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ خطے کے تمام ممالک کی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے راستے محفوظ رہ سکیں۔
پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں ممکنہ تیل کے بحران کے پیش نظر پیشگی ہنگامی منصوبے مرتب کریں۔ ملک میں آئل ریزرو کو فعال رکھنے اور متبادل توانائی کے ذرائع کو متحرک کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں اچانک جھٹکے کا اثر مقامی عوام پر کم سے کم پڑے۔ پاکستان کو اپنی غیر جانبدارانہ اور اثر انگیز سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
کیا آپ کے خیال میں اگر باب المندب کا یہ بحران طویل ہوا تو پاکستان کی موجودہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے کو کنٹرول کر پائے گی؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔