مکمل تفصیلات
گوجرانوالہ پولیس میں بڑی محکمانہ کارروائی کے تحت 20 اہلکاروں کو سروس سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ دو سب انسپکٹرز کی تنزلی کر کے انہیں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) بنا دیا گیا۔ یہ کارروائی ڈیوٹی سے غیر حاضری، بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی جیسے الزامات پر کی گئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق 15 اہلکاروں کو خصوصی امن و امان ڈیوٹی کے دوران بزدلی دکھانے اور مسلسل غیر حاضری پر برطرف کیا گیا۔ برطرف ہونے والوں میں سب انسپکٹرز، کانسٹیبلز، ڈرائیورز اور پولیس وومن شامل ہیں۔ سب انسپکٹر کامران طفیل کو بدعنوانی کے الزام میں سروس سے نکالا گیا، جبکہ سب انسپکٹر مشتاق کو بھی بدعنوانی ہی کے الزام پر برطرف کیا گیا۔ خاتون سب انسپکٹر تہذیب شوکت اور ایک لیڈی کانسٹیبل کو غیر حاضری پر نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
مزید یہ کہ سب انسپکٹرز احتشام اور یاسین کو بدعنوانی کے مشابه الزامات پر اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی دی گئی۔ ایک ٹریفک اسسٹنٹ، عبداللہ، کو بھی برطرف کیا گیا۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037243/sub-inspectors-among-20-cops-dismissed-from-service-in-gujranwala
تاریخِ اشاعت: 15 اکتوبر 2026، 14:54 PKT
عوامی اثرات
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ پولیس کے اندر احتساب کا معاملہ براہِ راست عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ جب وردی پہننے والے اہلکار خود ڈیوٹی سے غائب ہوں، بدعنوانی کے الزامات میں گھِر جائیں یا ہنگامی حالات میں ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہیں تو اس کا اثر پورے شہر کے امن و امان پر پڑتا ہے۔ گوجرانوالہ جیسے بڑے شہر میں ایسی کارروائی عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ محکمہ پولیس میں جواب دہی اب بھی ممکن ہے۔
دوسری طرف، یہ خبر شہریوں کے لیے ایک سوال بھی چھوڑتی ہے: کیا ایسی برطرفیاں واقعی نظام کو صاف کریں گی یا یہ صرف ایک وقتی کارروائی ثابت ہوں گی؟ عام آدمی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ تھانے، گشت، اور سڑکوں پر تعینات عملہ ایماندار، حاضر اور ذمہ دار ہو۔ اگر محکمہ اپنے اندر سے خراب عناصر نکالے گا تو عوامی اعتماد بڑھے گا، ورنہ قانون کی گرفت کمزور محسوس ہوتی رہے گی۔
عمل یا حل
اب اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کارروائی کو محض خبر نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے مستقل احتسابی نظام میں بدلا جائے۔ پولیس فورس میں حاضری، ڈیوٹی کارکردگی، اور بدعنوانی کے خلاف شفاف نگرانی ہو، تاکہ صرف بڑے اسکینڈل پر نہیں بلکہ روزمرہ سطح پر بھی جواب دہی قائم رہے۔ جو اہلکار محنت اور دیانت سے کام کرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ نظام انہیں بدنام عناصر کے ساتھ ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکے۔
حکومتی اور محکمانہ سطح پر یہ سوال اہم ہے کہ کیا دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی سخت فیصلے ہوں گے؟ اور کیا شہریوں کو واقعی بہتر پولیسنگ ملے گی؟ عوام اب یہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ برطرفی کے بعد پولیس کا رویہ، حاضری اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے یا نہیں۔ آپ کے خیال میں ایسے اہلکاروں کے خلاف صرف برطرفی کافی ہے یا فوجداری کارروائی بھی ہونی چاہیے؟