مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں وزیرِاعظم کی تشکیل کردہ سب کمیٹی نے جھینگا فارمنگ کو بڑھانے، اس کی ویلیو ایڈیشن بہتر کرنے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے 120 دن کے اندر ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیش رفت منگل کے روز سامنے آئی جب بحری امور کے وزیر Junaid Anwar Chaudhry نے آبی زراعت اور جھینگا ویلیو چین سے متعلق سب کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں صوبائی فشریز محکموں کے حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ مقصد ایک ایسی مربوط حکمتِ عملی بنانا ہے جس کے ذریعے آبی زراعت کو ایک زیادہ مسابقتی اور برآمدی صنعت میں بدلا جا سکے۔ جاری بیان کے مطابق 120 دن کی یہ مدت ایک بڑے 24 ماہ کے implementation اور review process کا حصہ ہے۔

وزیرِاعظم Shehbaz Sharif پہلے ہی برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی کو حکومت کی سب سے بڑی ترجیح قرار دے چکے ہیں، اور اسی مقصد کے مطابق رواں مالی سال FY27 کا وفاقی بجٹ بھی تیار کیا گیا ہے۔ سب کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ verified data اور stakeholders کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کرے گی۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040236/in-bid-to-boost-exports-govt-sets-120-day-deadline-for-roadmap-to-expand-shrimp-farming

عوامی اثرات

یہ فیصلہ صرف ایک فائل یا اجلاس تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اثر ان لوگوں پر پڑ سکتا ہے جو ساحلی علاقوں میں ماہی گیری، جھینگا فارمنگ، پراسیسنگ اور برآمدی کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اگر حکومت واقعی ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ لنکس بہتر کرتی ہے تو پاکستان کی برآمدی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ساحلی معیشت کو نئی جان مل سکتی ہے۔

عام پاکستانی کے لیے اس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ برآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ میں بہتری، صنعتوں میں سرگرمی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید بنتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ صرف کاغذی روڈ میپ رہے گا یا واقعی صوبوں اور وفاق کے درمیان عملی ہم آہنگی پیدا ہو سکے گی؟

عمل یا حل

اب اصل امتحان 120 دن کی ڈیڈ لائن پر ہے۔ سب کمیٹی کو صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسا قابلِ عمل منصوبہ دینا ہوگا جس میں پیداوار، پراسیسنگ، معیار، برآمدی چینلز اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں واضح ہوں۔ اگر صوبائی فشریز محکمے اور وفاقی ادارے ایک لائن پر نہ آئے تو یہ کوشش بھی پرانی فائلوں کی نذر ہو سکتی ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس روڈ میپ میں زمینی حقائق، مقامی ماہی گیروں کی مشکلات، سرمایہ کاری کی رکاوٹیں اور عالمی منڈی کی ضروریات سب کو شامل کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان جھینگا فارمنگ کو واقعی ایک برآمدی ہتھیار بنا پاتا ہے یا نہیں؟