مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں پیر کے روز وفاقی حکومت نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دوا کی قیمت بلاجواز نہیں بڑھائی جا سکتی۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ موجودہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ ادویات منصفانہ قیمت پر دستیاب رہیں اور مریضوں، امپورٹرز یا فارماسیوٹیکل صنعت پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
یہ اجلاس ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) میں ہوا، جس کی صدارت اقتصادی امور کے وزیر عطاء چیمہ نے کی۔ انہیں بریفنگ دی گئی کہ زیرِ التوا ڈرگ پرائسنگ کیسز کی کیس وائز جانچ تقریباً مکمل ہو چکی ہے، اس لیے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان کیسز کی کارروائی تیز کی جائے۔ وزیر نے اس پیش رفت کو سراہا اور وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور DRAP حکام کی کوششوں کو بھی تسلیم کیا۔
اجلاس میں سیکریٹری صحت مومن آغا، DRAP کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ اجلاس کو WHO کی تجویز کردہ ٹرائی ویلنٹ انفلوئنزا ویکسین کی مناسب مقدار دستیاب ہونے سے آگاہ کیا گیا۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040010/govt-orders-review-of-existing-drug-pricing-formula-to-ensure-medicines-are-priced-fairly
عوامی اثرات
یہ فیصلہ عام مریض کے لیے براہِ راست اہم ہے، کیونکہ پاکستان میں دواؤں کی قیمت بڑھنے کا سب سے زیادہ اثر انہی گھروں پر پڑتا ہے جہاں علاج پہلے ہی مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر قیمتوں کا نظام شفاف اور منصفانہ ہو تو ضروری ادویات تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو روزانہ یا طویل مدت کی دوا لیتے ہیں۔
فارماسیوٹیکل کمپنیوں، امپورٹرز اور ڈرگ ریگولیٹری نظام کے لیے بھی یہ ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ اب قیمتوں کے فیصلے زیادہ سخت جانچ کے بعد ہوں گے۔ عوامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھے گا کہ کیا حکومت واقعی ادویات سستی اور دستیاب رکھنے میں سنجیدہ ہے، یا پھر کاغذی اصلاحات تک بات محدود رہے گی؟
عمل یا حل
اب اصل امتحان اس فیصلے پر عمل درآمد ہے۔ اگر DRAP اور متعلقہ وزارتیں زیرِ التوا قیمتوں کے کیسز تیزی سے نمٹاتی ہیں، تو بازار میں غیر یقینی کم ہو سکتی ہے اور مریضوں کو بار بار قیمتوں کے جھٹکے نہیں لگیں گے۔ دوسری طرف، اگر فارمولے پر نظرثانی صرف اعلان تک محدود رہی تو عوام کو کوئی فوری ریلیف نہیں ملے گا۔
حکومت کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ واضح، شفاف اور قابلِ فہم بنایا جائے، تاکہ نہ مریض پریشان ہوں، نہ جائز کاروبار متاثر ہو۔ سوال یہ ہے: کیا اب دوا کی قیمت واقعی ضرورت اور منطق کے مطابق طے ہوگی، یا ہر بار نیا بحران کھڑا ہوگا؟