مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف نگرانی کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نقد لین دین کی وہ حد بڑھا دی ہے جس کے بعد بینکوں کو Financial Monitoring Unit (FMU) کے پاس Currency Transaction Report (CTR) بھیجنا لازم ہوتا ہے۔ اب یہ حد 2 کروڑ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، یعنی 50 فیصد اضافہ۔ یہ فیصلہ Anti-Money Laundering Act (AMLA) کے تحت رپورٹنگ فریم ورک کے جائزے کے دوران کیا گیا۔
یہ منظوری نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی برائے Anti-Money Laundering and Countering Financing of Terrorism (AML-CFT) نے دی، جس کی قیادت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں۔ نظام کے مطابق اگر کسی لین دین یا سرگرمی میں منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کا شبہ ہو تو Suspicious Transaction Report (STR) فائل کی جاتی ہے، جبکہ نقد رقم کی مخصوص حد پوری یا اس سے زیادہ ہونے پر CTR جمع کرائی جاتی ہے۔
تاریخ: رپورٹ 28 اکتوبر 2026 کو 06:15 PKT پر شائع ہوئی۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040268/govt-raises-threshold-for-currency-transaction-reports-to-rs3m-as-anti-money-laundering-framework-reviewed
یہ تبدیلی بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے رپورٹنگ کے طریقۂ کار کو متاثر کرے گی، کیونکہ اب زیادہ بڑے نقد لین دین اس مخصوص رپورٹنگ حد سے باہر ہوں گے جب تک کہ وہ مشتبہ نہ ہوں۔
عوامی اثرات
اس فیصلے کا براہِ راست اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو بڑے نقد لین دین کرتے ہیں، خاص طور پر کاروباری طبقہ، جائیداد کے سودے کرنے والے، اور وہ ادارے جو نقد رقوم سے کام کرتے ہیں۔ اب 2 کروڑ سے 3 کروڑ روپے تک کی نقد ٹرانزیکشنز خودکار طور پر اسی CTR حد کے تحت نہیں آئیں گی، جس سے رپورٹنگ کی نوعیت بدل جائے گی۔
دوسری طرف، حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا اصل مقصد برقرار رہے گا، کیونکہ STR کا نظام الگ موجود ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ مالی نگرانی، بینکنگ کمپلائنس اور نقد معیشت سے جڑے قوانین میں ایسی تبدیلیاں براہِ راست روزمرہ کاروبار، بڑی خرید و فروخت اور قانونی جانچ پڑتال کو متاثر کرتی ہیں۔
عمل یا حل
اب دیکھنا یہ ہے کہ بینک، مالیاتی ادارے اور ریگولیٹر اس نئی حد کو اپنے اندرونی کمپلائنس سسٹمز میں کیسے نافذ کرتے ہیں۔ چونکہ STR اور CTR دو الگ رپورٹنگ میکانزم ہیں، اس لیے اصل توجہ اب بھی مشتبہ لین دین کی نشاندہی پر رہے گی، نہ کہ صرف رقم کی مقدار پر۔
عوام اور کاروباری حلقوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ بڑے نقد سودوں میں مکمل دستاویزات، بینکنگ چینل اور شفاف ریکارڈ رکھیں تاکہ بعد میں کسی سوال یا جانچ میں مشکل نہ ہو۔ یہ فیصلہ ایک طرف نظام کو اپ ڈیٹ کرتا ہے، مگر دوسری طرف یہ بحث بھی کھولتا ہے کہ کیا بڑی نقد معیشت پر نگرانی کم ہوئی ہے یا صرف رپورٹنگ کا معیار بدلا ہے؟