مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں جمعرات کو وفاقی حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان خیبر پختونخوا کی حکمرانی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک بار پھر سخت محاذ آرائی سامنے آئی۔ وفاقی وزرا نے الزام لگایا کہ کے پی حکومت دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے بجائے اپنی سیاسی مہم، خاص طور پر پارٹی کی لانگ مارچ سیاست، پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اس کے جواب میں پی ٹی آئی نے کہا کہ مرکز خیبر پختونخوا کو اپنی “ناکام وفاقی پالیسیوں” کے نتائج کے لیے موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے۔
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے مذاکرات چاہتی ہے تو اپنے وزرا اور ترجمانوں کو روزانہ میڈیا پر آ کر اشتعال انگیز بیانات دینے سے روکے۔ پارٹی کے اطلاعات سیکریٹری شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کرنا اور دوسری طرف وزرا کو میڈیا پر پی ٹی آئی قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے دینا، سنجیدہ بات چیت کے امکانات کو کمزور کرتا ہے۔
تاریخ: جمعرات، 9 اکتوبر 2026
وقتِ اشاعت: 12:21 PKT
مقام: اسلام آباد
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035792/govt-pti-trade-barbs-over-kp-governance-issues
عوامی اثرات
یہ لڑائی صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا سیدھا اثر خیبر پختونخوا کے عوام، سکیورٹی اداروں اور پورے ملک کے سیاسی ماحول پر پڑتا ہے۔ جب مرکز اور صوبہ ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہیں تو دہشت گردی، امن و امان اور انتظامی کمزوری جیسے اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
عام شہری کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف سکیورٹی کے خدشات بڑھ رہے ہیں، دوسری طرف سیاسی کشیدگی بھی کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں کاروبار، سفر، عوامی اعتماد اور صوبائی و وفاقی تعاون سب متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی سیاسی عدم استحکام حساس مسئلہ ہے، اس لیے یہ جھگڑا صرف پارٹیوں کا نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا امتحان بھی بن جاتا ہے۔
عمل یا حل
اگر واقعی مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو دونوں فریقوں کو بیانات کی جنگ کم اور عملی رابطہ زیادہ کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنی پریس ٹیم اور وزرا کے لہجے پر قابو رکھے، جبکہ پی ٹی آئی کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ صوبائی گورننس اور سکیورٹی کے سوالات کا سیاسی جواب نہیں بلکہ عملی منصوبہ دینا چاہتی ہے۔
خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ مسئلہ تبھی حل ہوگا جب دہشت گردی، انتظامی کمزوری اور وفاق-صوبہ عدم اعتماد پر سنجیدہ بات چیت ہو۔ سوال یہ ہے: کیا فریقین واقعی مذاکرات چاہتے ہیں، یا ہر روز کے بیانات سے سیاسی دباؤ بڑھانا ہی اصل مقصد ہے؟