مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے پیر کے روز نئے پروکیورمنٹ/خریداری قواعد جاری کر دیے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کے اجرا سے متعلق مذاکرات کا آغاز ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ قواعد مقررہ ڈیڈ لائن سے دو دن پہلے نوٹیفائی کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اسٹاف مشن کی قیادت اوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔ یہ ٹیم 23 ستمبر سے پاکستان میں موجود ہے۔ ابتدائی دنوں میں اس نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، جبکہ اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اور خیبر پختونخوا و پنجاب کے سیکریٹری خزانہ سے بھی تفصیلی مشاورت کی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سوورین ویلتھ فنڈ (SWF) کے قانون سے متعلق ساختی اہداف کی مسلسل خلاف ورزی پر سوالات بدستور موجود ہیں۔ نئے قواعد میں بعض ایسی چھوٹیں برقرار رکھی گئی ہیں جن کے تحت سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) سے براہِ راست معاہدہ کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس پر تحفظات موجود تھے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033401/govt-notifies-new-procurement-rules-with-imf-team-in-town
عوامی اثرات
یہ خبر صرف کاغذی ضابطوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ پاکستان کی مالی پالیسی، آئی ایم ایف مذاکرات اور سرکاری خریداری کے پورے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ جب حکومت خریداری کے قواعد بدلتی ہے تو اس کا اثر سرکاری ٹھیکوں، شفافیت، مقابلے، اور عوامی پیسے کے استعمال پر پڑتا ہے۔ اگر قواعد میں چھوٹیں برقرار رہیں تو یہ سوال اور مضبوط ہوتا ہے کہ کیا نظام واقعی شفاف ہوگا یا مخصوص اداروں اور معاہدوں کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کے دوران ایسے فیصلے عام لوگوں کے لیے بھی اہم ہوتے ہیں، کیونکہ قرض پروگرام، اصلاحات اور شرائط آخرکار بجٹ، قیمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور ریاستی اداروں کے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سوورین ویلتھ فنڈ قانون پر اٹھنے والے سوالات بھی اسی لیے اہم ہیں کہ عالمی ادارے پاکستان سے صرف رقم نہیں، نظامی اصلاحات بھی دیکھتے ہیں۔
عمل یا حل
اب اصل امتحان قواعد جاری کرنے سے زیادہ ان پر عمل درآمد ہے۔ اگر حکومت واقعی شفافیت چاہتی ہے تو اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ کن حالات میں براہِ راست خریداری کی اجازت دی جا رہی ہے، کن اداروں کو چھوٹ مل رہی ہے، اور نگرانی کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ اسی طرح IMF مذاکرات میں قانونی اور انتظامی کمزوریوں کو وقتی طور پر نہیں بلکہ مستقل اصلاحات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
عوام کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئے قواعد واقعی احتساب مضبوط کریں گے یا صرف پرانے نظام کو نئے نام سے چلانے کا راستہ بنیں گے؟ جب تک خریداری، فنڈز اور سرکاری معاہدوں میں کھلی نگرانی نہیں آئے گی، ہر نئی نوٹیفکیشن کے ساتھ شفافیت پر بحث بھی زندہ رہے گی۔