مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں اتوار کے روز حکومت نے بجلی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 400 میگاواٹ کی پہلی وھیلنگ نیلامی کا اعلان کیا۔ یہ نیلامی طویل عرصے سے زیرِ التوا Competitive Trading Bilateral Contracts Market (CTBCM) کے تحت ہوگی، جس کا مقصد پاور سیکٹر کو ایک ایسے نظام کی طرف لے جانا ہے جہاں بڑے صارفین اپنی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرنے والے کا انتخاب کر سکیں۔
یہ اعلان Independent System and Market Operator (Ismo) کی جانب سے کیا گیا، جو پاور ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔ Ismo نے Request for Proposals (RFP) جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممکنہ auction participants CTBCM کے تحت لین دین کے لیے اپنی تجاویز جمع کرائیں۔ دستاویز کے مطابق RFP جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 ہے۔
پاور وزیر Awais Ahmad Khan Leghari نے اس پیش رفت کو پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک تاریخی اور بڑا قدم قرار دیا ہے، جس کے ذریعے نظام کو single-buyer model سے competitive electricity market کی طرف لے جانے کی بات کی گئی ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2031351/govt-invites-bids-for-first-400mw-wheeling-auction-says-it-is-exiting-power-procurement
عوامی اثرات
اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر صنعتی اور بڑے بجلی صارفین پر پڑے گا، کیونکہ اب انہیں اپنے علاقے کی ایک ہی تقسیم کار کمپنی سے بجلی لینے کی مجبوری کم ہو سکتی ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر چل پڑا تو فیکٹریوں، بڑے تجارتی یونٹس اور ایسے اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے جو بہتر نرخ، بہتر سپلائی یا مختلف سپلائرز کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
عام پاکستانی کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ ملک کے پاور سیکٹر میں مقابلے کا دروازہ کھلنے سے مستقبل میں قیمتوں، معاہدوں اور بجلی کی خریداری کے طریقۂ کار پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اگر نظام شفاف اور مؤثر نہ ہوا تو اس کا فائدہ صرف بڑے کھلاڑیوں تک محدود رہ سکتا ہے۔
عمل یا حل
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا CTBCM واقعی پاکستان میں بجلی کے شعبے کو زیادہ مسابقتی، شفاف اور صارف دوست بنا سکے گا یا نہیں۔ حکومت نے پہلا قدم اٹھا دیا ہے، مگر اس کے بعد بولیوں کی جانچ، معاہدوں کی تفصیل، اور مارکیٹ کے عملی قواعد ہی طے کریں گے کہ یہ اصلاحات کاغذ سے نکل کر زمین پر بھی نظر آئیں گی یا نہیں۔
20 نومبر 2026 تک بولیاں جمع ہوں گی، اس لیے اگلے چند ماہ اس نظام کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر یہ ماڈل کامیاب ہوا تو یہ بجلی کی خرید و فروخت کے پرانے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اگر شفافیت، رسائی اور عملدرآمد میں کمزوری رہی تو یہ ایک اور دیرینہ اصلاحی منصوبہ بن کر رہ جائے گا۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان واقعی single-buyer system سے نکل کر competitive market کی طرف جا رہا ہے، یا یہ صرف ایک اور اعلان ہے؟