مکمل تفصیلات
لاہور: حکومت بجلی چوری، لائن لاسز اور لوڈشیڈنگ کے انتظام کے لیے ایک نیا Asset Performance Management System (APMS) متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے Advanced Power Management System بھی کہا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا اور اس کا پائلٹ لاہور اور قصور سے شروع ہوگا۔ اس نظام کو اسمارٹ میٹرز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ بجلی کے استعمال کی ریئل ٹائم نگرانی ہو سکے اور چوری یا نقصانات کی اصل جگہ زیادہ درست انداز میں معلوم کی جا سکے۔
توانائی کے وزیر Awais Leghari نے یہ اعلان پیر کو Dera Ghazi Khan میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر اُن علاقوں میں مدد دے گی جہاں بجلی چوری زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے مخصوص ٹرانسفارمرز کی نشاندہی کی جا سکے گی، جس کے بعد ٹارگٹڈ ڈس کنیکشن کیا جا سکے گا۔ وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طریقۂ کار سے ہزاروں ایسے صارفین کو ایک ساتھ سزا نہیں ملے گی جو بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔
تاریخ: پیر، رپورٹ/اشاعت 20 اکتوبر 2026، 12:43 PKT
مقام: Dera Ghazi Khan، پائلٹ: Lahore اور Kasur
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038438/govt-unveils-hi-tech-system-to-manage-loadshedding
عوامی اثرات
یہ خبر عام صارفین کے لیے اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری کا بوجھ اکثر اُن لوگوں پر بھی آ جاتا ہے جو وقت پر بل ادا کرتے ہیں۔ اگر نیا نظام واقعی درست طریقے سے کام کرتا ہے تو پورے فیڈر کو سزا دینے کے بجائے اصل مسئلہ وہیں پکڑا جا سکے گا جہاں چوری یا نقصان ہو رہا ہے۔ اس سے ایماندار صارفین کو کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔
دوسری طرف یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ آیا حکومت اس ٹیکنالوجی کو صرف اعلان تک محدود رکھتی ہے یا واقعی فیلڈ میں مؤثر انداز میں نافذ کرتی ہے۔ بجلی کے نظام میں شفاف نگرانی، درست ڈیٹا اور فوری ایکشن نہ ہو تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پھر بھی عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی لیے یہ اقدام صرف تکنیکی نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور توانائی پالیسی کا امتحان بھی ہے۔
عمل یا حل
اب اصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ APMS لاہور اور قصور کے پائلٹ مرحلے میں کتنی جلدی نتائج دیتا ہے، اور کیا اس سے بجلی چوری واقعی کم ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر اسمارٹ میٹرز کے ساتھ ڈیٹا درست طریقے سے جوڑا گیا اور ٹرانسفارمر سطح پر کارروائی ہوئی تو لوڈ مینجمنٹ زیادہ ہدفی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر عملدرآمد کمزور ہوا تو یہ نظام بھی صرف ایک نیا نام بن کر رہ جائے گا۔
عوام کے لیے حل یہی ہے کہ بجلی چوری کی حوصلہ شکنی ہو، نقصانات کی درست نشاندہی ہو، اور ایماندار صارفین کو اجتماعی سزا نہ دی جائے۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان پہلی بار ٹیکنالوجی سے بجلی کے مافیا پر واقعی ہاتھ ڈالنے جا رہا ہے، یا یہ بھی ایک اور سرکاری اعلان ثابت ہوگا؟