مکمل تفصیلات
سابق آرمی چیف جنرل عبد الواحد کاکر کا انتقال پیر کے روز راولپنڈی میں ہوا۔ یہ اطلاع فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (Inter-Services Public Relations / ISPR) کی جانب سے جاری بیان میں دی گئی۔ خبر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جبکہ پاک فوج کے تمام رینکس نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عبد الواحد کاکر کی عسکری زندگی، قیادت اور پاکستان آرمی کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج سوگوار خاندان کے غم میں شریک ہے۔ اصل خبر کا لنک: https://www.dawn.com/news/2039942/former-army-chief-abdul-waheed-kakar-passes-away-in-rawalpindi
تاریخ: 2026-10-26، وقتِ اشاعت: 17:46 PKT۔
جنرل عبد الواحد کاکر پاکستان کے آرمی چیف جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک رہے۔ ان کے دورِ قیادت میں وہ سیاسی پس منظر بھی نمایاں رہا جس میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے استعفے دیے، جس کے بعد 1993 کے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی اور بینظیر بھٹو وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔
عوامی اثرات
جنرل عبد الواحد کاکر کے انتقال کی خبر صرف ایک سابق فوجی سربراہ کے رخصت ہونے کی خبر نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی علامت بھی ہے۔ ان کا نام 1990 کی دہائی کی اس سیاست سے جڑا ہوا ہے جس نے ملک کے اقتدار، اداروں کے تعلق اور آئینی بحرانوں پر گہرا اثر ڈالا۔
پاکستان میں ایسے واقعات عوامی سطح پر اس لیے بھی توجہ کھینچتے ہیں کہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ ریاستی فیصلے، عسکری قیادت اور سیاسی اتار چڑھاؤ کس طرح ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ ان کے انتقال کے ساتھ وہ نسل بھی مزید پیچھے چلی گئی جس نے ایک نازک دور میں ملک کی سمت پر اثر ڈالا تھا۔
عمل یا حل
اب توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ ان کی خدمات اور ان کے دور کے فیصلوں کو تاریخی تناظر میں سمجھا جائے، جذباتی نعروں سے ہٹ کر۔ ایسے مواقع پر اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے مرحوم قائدین کے بارے میں درست، مکمل اور غیر مبہم ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیں تاکہ تاریخ کا بیانیہ مضبوط رہے۔
عوام کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ پاکستان کی عسکری و سیاسی تاریخ کے اس اہم دور کو سنجیدگی سے پڑھیں اور سمجھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسے بڑے ناموں کو صرف ایک خبر کے طور پر یاد رکھتے ہیں، یا ان کے دور کے فیصلوں سے سبق بھی لیتے ہیں؟