مکمل تفصیلات
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتہ کے روز اپنی پوزیشن دوبارہ واضح کی اور کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے ملک کی سکیورٹی صورتحال پر جو بات کی گئی تھی، وہ اداروں کے خلاف نہیں بلکہ پالیسیوں کے خلاف تھی۔ انہوں نے وفاقی وزراء کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو کردار کشی قرار دیا۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ایک روز پہلے، وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ایک پارٹی کے سربراہ اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ انہیں خیبرپختونخوا کا گورنر نہیں بنایا گیا۔ اسی تناظر میں، ہفتہ کے روز وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی جے یو آئی-ف کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کے پی کی حکمرانی میں اپنا “حصہ” مانگ رہے ہیں۔
یہ تنازع اس کے بعد مزید بڑھا جب فضل الرحمان نے مرکز پر صوبوں کے حقوق سے محرومی کا الزام عائد کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کی کمی کو جواز بنا کر گورنر راج کیوں لگایا گیا۔ دیگر وفاقی وزراء نے بھی ان کے بیانات پر اعتراض کیا ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037812/fazl-clarifies-he-criticised-policies-not-institutions-after-ministers-allege-he-sought-share-in-kp-governance
تاریخ: 18 اکتوبر 2026، ہفتہ؛ وقتِ اشاعت: 00:43 PKT
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ مرکز اور صوبوں کے تعلق، سکیورٹی پالیسی اور گورننس کے بڑے سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، انتظامی دباؤ اور سیاسی کشمکش کے باعث حساس صوبہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات عوام میں بے چینی بڑھاتے ہیں۔
جب وفاقی وزراء اور ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کے درمیان ایسی تلخ گفتگو ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف ٹی وی اسکرین تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سیاسی ماحول، صوبائی اعتماد اور عوامی ردعمل پر بھی پڑتا ہے۔ لوگوں کے لیے اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا بحث واقعی پالیسی پر ہے یا اقتدار کی تقسیم اور سیاسی برتری کی جنگ چل رہی ہے۔
عمل یا حل
اس تنازع کا حل صرف الزامات کی سیاست نہیں بلکہ واضح اور شفاف جواب دہی ہے۔ اگر مسئلہ واقعی سکیورٹی پالیسی، صوبائی حقوق یا دہشت گردی کے خلاف تعاون کا ہے تو حکومت کو کھل کر بتانا ہوگا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت کیوں سمجھی گئی، اور اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح اپوزیشن یا تنقید کرنے والی جماعتوں کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان کا اعتراض کس پالیسی پر ہے اور کس ادارے پر نہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ مذاکرات اور وضاحت کی طرف جاتا ہے یا مزید سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ سوال یہی ہے: کیا وفاق اور صوبے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں، یا ہر اختلاف کو ذاتی حملے اور طاقت کی لڑائی بنا دیا جائے گا؟