مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام-ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی میں ان سے ثالثی کی درخواست کرنے کے باوجود حکومت نے اپنی commitments یعنی وعدے اور یقین دہانیاں پوری نہیں کیں۔ انہوں نے یہ موقف اتوار کو اپنی اسلام آباد والی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں پیش کیا، جو جے یو آئی-ف کی مرکزی کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد منعقد ہوئی۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق وہ 7 اکتوبر کو عمرہ سے واپس آئے تھے۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ ان کے بقول اگلے دن وفاقی وزرا بھی ان سے ملے اور اسی معاملے میں مداخلت چاہی۔ پس منظر میں مرکز اور پی ٹی آئی کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا، اور معاملہ خیبر پختونخوا تک جا پہنچا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، بعد ازاں وہاں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036416/fazl-accuses-govt-of-reneging-on-its-commitments-after-seeking-his-mediation-with-pti
تاریخِ اشاعت: 12 اکتوبر 2026، 03:50 PKT
یہ خبر اسی لیے اہم ہے کہ ایک بڑے مذہبی و سیاسی رہنما نے کھل کر حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور ثالثی کی وہ کوشش بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہے جس سے سیاسی بحران کم ہونے کی امید کی جا رہی تھی۔
عوامی اثرات
اس معاملے کا اثر صرف اسلام آباد کے سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کی بازگشت خیبر پختونخوا، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے ووٹرز تک پہنچتی ہے۔ جب سیاسی بحران بڑھتا ہے تو عام شہریوں میں یہ احساس مضبوط ہوتا ہے کہ طاقت کی کشمکش ان کی روزمرہ زندگی، انتظامی فیصلوں اور صوبائی نظم و نسق پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے فیصلے پہلے ہی عوامی بے چینی بڑھا دیتے ہیں، اور اب اگر ثالثی کی کوششیں بھی ناکام دکھائی دیں تو سیاسی دراڑ مزید گہری ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا بڑے سیاسی فریق واقعی مذاکرات چاہتے ہیں یا صرف دباؤ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔
عمل یا حل
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا مولانا فضل الرحمان کی ثالثی دوبارہ کسی عملی سیاسی رابطے میں بدلتی ہے یا نہیں۔ اگر حکومت اور پی ٹی آئی دونوں واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بیانات سے آگے بڑھ کر واضح، تحریری اور قابلِ تصدیق سیاسی لائحہ عمل دینا ہوگا تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
اس خبر سے یہ بھی واضح ہے کہ پسِ پردہ رابطے تبھی نتیجہ دیتے ہیں جب دونوں فریق اپنی بات پر قائم رہیں۔ ورنہ ثالثی کی کوشش بھی ایک اور تنازع بن جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے مؤقف کی وضاحت کرتی ہے یا مولانا فضل الرحمان مزید تفصیلات سامنے لاتے ہیں۔ سوال یہی ہے: کیا پاکستان کی سیاست میں مفاہمت اب بھی ممکن ہے، یا ہر رابطہ اگلے الزام کی بنیاد بن چکا ہے؟