مکمل تفصیلات

TOBA TEK SINGH / فیصل آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق غلام محمد آباد صنعتی علاقے کے درجنوں پاورلوم ورکرز نے پیر کے روز سدھوپورہ پولیس چوکی کے انچارج کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی وجہ یہ الزام تھا کہ ایک 13 سالہ مزدور اور اس کی والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کم عمر لڑکے کو ایک پرانے اور بے بنیاد کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

لیبر قومی موومنٹ کے چیئرمین بابا لطیف انصاری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاورلوم ورکر غلام مصطفیٰ نے اپنی واجب الادا اجرت مانگی تھی، جس کے بعد پولیس مبینہ طور پر فیکٹری مالک کو خوش کرنے کے لیے اس کے گھر پہنچی۔ ان کے مطابق پولیس نے ماں بیٹے دونوں کو مارا پیٹا، پھر لڑکے کو بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے گرفتار کیا، اور بعد میں پولیس اسٹیشن میں بھی اس پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر غلام مصطفیٰ کو رہا نہ کیا گیا تو ورکرز پولیس چوکی کے باہر دھرنا دیں گے۔

تاریخ: پیر، 2026-10-20
وقت: 2026-10-20 14:44 PKT (خبر کی اشاعت)
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038349/powerloom-workers-protest-police-torture-in-faisalabad

اسی خبر کے مطابق فیصل آباد کے ریجنل پولیس آفیسر Inamur Rehman Malik نے پیر کے روز سب انسپکٹر Hakim Ali کو برطرف بھی کر دیا، جو اس تنازع سے جڑا ایک اہم انتظامی اقدام تھا۔

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ مزدوروں، پولیس اور صنعتی طاقت کے توازن پر بڑا سوال ہے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں پاورلوم ورکرز پہلے ہی کم اجرت، دباؤ اور غیر محفوظ کام کے ماحول کا سامنا کرتے ہیں؛ ایسے میں اگر اجرت مانگنے پر گھر پر چھاپہ، تشدد اور کم عمر مزدور کی گرفتاری کے الزامات لگیں تو یہ خوف اور بے اعتمادی کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

اس خبر کا عوامی اثر اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں کم سن مزدور، خاندان پر مبینہ تشدد، اور پولیس کے اختیارات کے استعمال جیسے سنگین پہلو شامل ہیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک گھر کا نہیں، بلکہ پورے صنعتی طبقے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کی نظر اس بات پر ہے کہ آیا معاملہ شفاف تحقیقات تک پہنچتا ہے یا پھر یہ احتجاج بھی معمول کی کارروائی سمجھ کر دب جائے گا۔

عمل یا حل

اس تنازع کا فوری حل یہی ہے کہ کم عمر مزدور، اس کی والدہ، اور احتجاج میں شامل ورکرز کے الزامات کی آزادانہ اور شفاف جانچ کی جائے۔ پولیس کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ گرفتاری کس مقدمے میں ہوئی، اس کی قانونی بنیاد کیا تھی، اور تشدد کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے۔ اگر کسی اہلکار نے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ ایسے واقعات عوامی اعتماد کو سیدھا چوٹ پہنچاتے ہیں۔

ساتھ ہی مزدوروں کے اجرت سے متعلق اصل تنازع کو بھی حل کرنا ضروری ہے، ورنہ احتجاج بار بار سڑکوں پر آتا رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست مزدور کی آواز سنے گی یا پھر طاقتور فریق کے حق میں خاموشی رہے گی؟ فیصل آباد کی یہ خبر اب ایک بڑے انصاف کے امتحان میں بدل چکی ہے۔