عوامی اثرات
اس سنسنی خیز انکشاف نے پاکستانی عوام اور بالخصوص کرکٹ کے جنونی پرستاروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اور جب قومی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کا ذمہ دار ملک کے مقبول ترین لیڈر اور سابق ورلڈ کپ وننگ کپتان عمران خان کو ٹھہرایا جائے، تو عوامی ردعمل کا شدید ہونا لازمی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اس الزام کو سیاسی مخالفت اور موجودہ کرکٹ بورڈ کی نااہلی کو چھپانے کی بھدی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ کرکٹ کے روایتی ماہرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں ڈومیسٹک اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بندش نے پاکستان کے بہترین ٹیلنٹ کو برباد کر کے رکھ دیا۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان سینکڑوں مقامی اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں پر پڑا ہے جو روزگار کے مواقع چھن جانے کے بعد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ عوام میں اس وقت شدید غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی ضد اور نظام کی مسلسل تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر ہنسنے کا سامان بنا دیا ہے۔ یہ تنازعہ اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے فیصلے تکنیکی بنیادوں کے بجائے سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جس کا خمیازہ بالآخر شائقین کرکٹ کو بھگتنا پڑتا ہے۔
عمل یا حل
اس سنگین بحران سے نکلنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو ہر قسم کے سیاسی اثر و رسوخ اور حکومتوں کی تبدیلی کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔ جب تک پی سی بی کے چیئرمین اور پالیسیاں سیاسی بنیادوں پر بدلتی رہیں گی، تب تک کوئی بھی نظام پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ میڈیا اور کھیلوں کے مبصرین کو چاہیے کہ وہ صرف ماضی کے فیصلوں پر مٹی ڈالنے یا یکطرفہ الزامات تراشی کرنے کے بجائے، گراس روٹ لیول پر ٹیلنٹ کی بحالی کے لیے ایک مضبوط اور غیر جانبدارانہ آواز بلند کریں۔
سابق سلیکٹرز اور بورڈ حکام کو بھی ٹی وی چینلز پر آ کر صرف بیانات دینے کے بجائے تحریری اور ٹھوس شواہد پر مبنی تجاویز سامنے لانی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے متنازعہ فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ بورڈ ایک آزاد، خودمختار اور پیشہ ور افراد پر مشتمل تھنک ٹینک قائم کرے جو ماضی کی تمام غلطیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر ایک ایسا ڈومیسٹک ڈھانچہ تیار کرے جس میں کھلاڑیوں کا روزگار بھی محفوظ ہو اور معیار بھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کبھی کھیلوں کے اداروں کو سیاست کی دلدل سے نکال کر خالص میرٹ پر چلایا جائے گا، یا پھر ہر نئی ناکامی کا ملبہ اسی طرح ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر جان چھڑائی جاتی رہے گی؟