مکمل تفصیلات

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنی موجودہ مدت ختم ہونے پر، یعنی 2030 میں، عہدے پر برقرار رہنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ 71 سالہ السیسی، جو ایک سابق فوجی جنرل ہیں، 2014 سے مصر کے صدر ہیں۔ انہوں نے یہ بات مصر کی ملٹری اکیڈمی کی گریجویشن تقریب میں کہی جو New Administrative Capital میں منعقد ہوئی، یہ وہ نیا شہر ہے جو قاہرہ کے مشرق میں واقع ہے اور السیسی کے بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

تقریب میں موجود گریجویٹس اور سرکاری حکام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصر کے آئین کو چھیڑا نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق 2030 تک کا عرصہ ان کی صدارت کی آخری مدت ہوگی اور اس پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس معاملے کو مکمل طور پر طے شدہ قرار دیا۔

پس منظر میں یاد رہے کہ مصر کا آئین 2014 میں منظور ہوا تھا، جب 2013 میں مرحوم صدر محمد مرسی کو فوجی مداخلت کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر آئین میں صدور کے لیے دو چار سالہ مدتوں کی حد رکھی گئی تھی، جبکہ 2019 کے ریفرنڈم میں آئینی ترامیم کے ذریعے صدارتی مدت چار سال سے بڑھا کر چھ سال کی گئی۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037828/egypts-president-sisi-pledges-to-leave-office-when-term-ends-in-2030

عوامی اثرات

یہ اعلان مصر کی سیاست میں طاقت کی منتقلی، آئینی حدود اور طویل حکمرانی پر جاری سوالات کو پھر سے سامنے لے آیا ہے۔ جب کوئی موجودہ صدر یہ کہتا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے بعد رکے گا، تو اس کا اثر صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خطے میں سیاسی اعتماد، ادارہ جاتی توازن اور اقتدار کے تسلسل پر بحث چھیڑ دیتا ہے۔

پاکستان سمیت ایسے ممالک میں جہاں آئین، مدتِ اقتدار اور سیاسی وعدوں پر عوامی حساسیت بہت زیادہ ہے، اس خبر کو لوگ اسی زاویے سے دیکھیں گے کہ آیا وعدہ واقعی عمل میں ڈھلتا ہے یا نہیں۔ 2030 ابھی دور ہے، مگر اس اعلان نے ابھی سے یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا سیاسی نظام شخصیات سے اوپر اٹھ کر اصولوں کے مطابق چلتا ہے یا نہیں۔

عمل یا حل

اس خبر سے اصل سبق یہی نکلتا ہے کہ جمہوری نظام میں مدت، آئین اور اقتدار کی حدیں واضح رہنی چاہئیں اور ان پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ اگر کوئی رہنما واقعی وقت پر رخصت ہونے کا اعلان کرتا ہے تو اس کی ساکھ تبھی بنے گی جب آئینی عمل، شفاف منتقلی اور ادارہ جاتی تسلسل برقرار رہے۔

اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ 2030 تک مصر میں سیاسی منظر نامہ کس سمت جاتا ہے اور کیا یہ اعلان محض سیاسی پیغام رہتا ہے یا عملی حقیقت بنتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے: کیا طاقت رکھنے والا ہر حکمران واقعی اپنی ہی مقرر کی گئی حد مانتا ہے، یا تاریخ پھر کوئی اور رخ دکھاتی ہے؟