عوامی اثرات

اس ہولناک وبا نے نہ صرف افریقہ بلکہ پوری دنیا بشمول پاکستان کے عوام میں شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی سطح پر سفری رابطوں اور فضائی سفر کی وجہ سے ایسی مہلک وبائیں کسی بھی وقت سرحدیں عبور کر کے دوسرے ممالک تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے پاکستانی شہری اور بیرون ملک مقیم مسافر براہ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ کانگو کے پسماندہ صوبوں میں صحت کے ناقص نظام اور مسلح تصادم کے باعث پیدا ہونے والی یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جب ریاست بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو عام شہریوں کو کس طرح اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

پاکستانی عوام کے لیے یہ بحران ایک بڑا انتباہ ہے کیونکہ ہمارے اپنے ملک کا ہیلتھ کیئر سسٹم بھی اکثر وبائی امراض کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ اگر کانگو جیسی خطرناک بیماری پاکستان کے کمزور ایئرپورٹ اسکریننگ سسٹم کو چکمہ دے کر یہاں داخل ہو گئی تو کیا ہمارے ہسپتال اس کا مقابلہ کر سکیں گے؟ عوام میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ عالمی ہیلتھ ایمرجنسیز کے دوران غریب ممالک کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سماجی اور معاشی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔

عمل یا حل

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبائی وزارت صحت کو فوری طور پر متحرک ہونا ہوگا۔ بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر افریقی ممالک سے آنے والے مسافروں کی سخت تھرمل اسکریننگ اور قرنطینہ کے سخت قوانین نافذ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے مخصوص وارڈز اور طبی عملے کی ہنگامی تربیت کا آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کا فوری سدباب کیا جا سکے۔

پاکستانی میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ عوام میں خوف پھیلائے بغیر اس مہلک وائرس کی علامات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں۔ عالمی برادری کو بھی کانگو جیسے جنگ زدہ اور پسماندہ علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری مالی اور طبی امداد فراہم کرنی چاہیے تاکہ اس وائرس کو افریقہ تک ہی محدود رکھ کر ختم کیا جا سکے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا موجودہ ہیلتھ سسٹم اور ایئرپورٹ اسکریننگ کانگو جیسے مہلک وائرس کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے واقعی تیار ہیں، یا ہم ایک بار پھر کسی بڑے المیے کا انتظار کر رہے ہیں؟