عوامی اثرات
اس نمائش کا عوامی اور سماجی اثر انتہائی گہرا اور دور رس ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی اور مایوسی کی لپیٹ میں ہے، یہ نمائش کراچی کے شہریوں کے لیے نہ صرف تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہے بلکہ اس نے قومی فخر کے احساس کو بھی بیدار کیا ہے۔ یہ محض کوئی تجارتی میلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے پسماندہ دیہی علاقوں کے غریب لیکن انتہائی باصلاحیت ہنرمندوں کو بلاواسطہ مارکیٹ تک رسائی دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب شہری ملٹی نیشنل برانڈز کے بجائے ان مقامی کاریگروں سے براہ راست خریداری کرتے ہیں، تو پیسہ سیدھا ان دیہاتوں تک پہنچتا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
مزید برآں، یہ ایونٹ ہماری نوجوان نسل کو ان کی روایتی اور ثقافتی جڑوں سے جوڑنے کا کام کر رہا ہے۔ ہالا، ملتان اور ہنزہ کی قدیم دستکاریوں کو اس طرح ایک جدید شہری ماحول میں پیش کرنا حب الوطنی کے جذبات کو ابھارتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس نمائش کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہمیں درآمدی مصنوعات پر انحصار ختم کر کے اپنی دیسی مصنوعات کی سرپرستی کرنی چاہیے تاکہ مقامی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔
عمل یا حل
اس شاندار ثقافتی ورثے کو بچانے اور فروغ دینے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو روایتی نمائشوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ محکمہ ثقافت اور تجارتی ترقیاتی اتھارٹی (TDAP) کو چاہیے کہ وہ ان دیہی ہنرمندوں کے لیے مستقل بنیادوں پر ڈیجیٹل ای کامرس پلیٹ فارمز تیار کریں تاکہ انہیں سال کے 365 دن بین الاقوامی خریداروں تک رسائی حاصل ہو سکے۔ صرف سال میں ایک یا دو بار ایسی نمائشیں منعقد کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ان کاریگروں کو سستے قرضے اور جدید تربیت فراہم کر کے ان کے کام کو عالمی سطح پر ایک برانڈ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عوام کو بھی اپنے روایتی رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی اور غیر ملکی برانڈز پر لاکھوں روپے لٹانے کے بجائے اپنے ملک کی مٹی سے بنے ان شاہکاروں کی اصل قیمت ادا کرنی چاہیے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری حکومت ان باصلاحیت دیہی کاریگروں کو مستقل معاشی تحفظ دینے کے لیے کوئی ٹھوس اور طویل مدتی پالیسی بنائے گی، یا یہ غریب ہنرمند صرف سال میں ایک بار اشرافیہ کی نمائشوں کی زینت بن کر واپس اپنے کچے گھروں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے؟