عوامی اثرات

یہ مسئلہ صرف ایک ایجنسی مالک کا نہیں، بلکہ پاکستان میں فری لانسنگ اور چھوٹے سروس بزنس چلانے والوں کی پوری حقیقت دکھاتا ہے۔ جب کام امریکہ کے کلائنٹس کے لیے ہو تو وقت کا فرق، مسلسل فالو اپ، اور سیلز کے لیے الگ بندہ نہ ہونا کاروبار کی رفتار کو روک دیتا ہے۔ ایک شخص اگر بیک وقت پروڈکٹ بھی بنائے، ڈیلیوری بھی کرے اور نئے کلائنٹس بھی ڈھونڈے تو گروتھ اکثر وہیں رک جاتی ہے جہاں سے بڑھنی چاہیے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے: صرف مہارت کافی نہیں، سیلز سسٹم بھی چاہیے۔ اگر کولڈ آؤٹ ریچ یا اپائنٹمنٹ سیٹنگ کمزور ہو تو اچھا کام بھی مارکیٹ تک نہیں پہنچتا۔ اسی لیے یہ بحث اہم ہے کہ کمیشن بیسڈ سیٹر واقعی قابلِ اعتماد ماڈل ہے یا نہیں، اور کیا ریموٹ پاکستانی ٹیمیں امریکی مارکیٹ میں اس طرح مستقل گاہک لا سکتی ہیں۔

عمل یا حل

ایسے کیس میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ سیلز، ڈیلیوری اور آپریشنز کو الگ الگ حصوں میں توڑا جائے۔ اگر ایک بندہ ہر کام کرے گا تو رفتار کم رہے گی، اس لیے کم از کم کولڈ ای میل، فالو اپ، اور لیڈ کوالیفکیشن کے لیے سادہ نظام بنانا ضروری ہے۔ کمیشن پر سیٹر رکھنا ممکن تو ہے، مگر اس کے لیے واضح ہدف، لیڈ لسٹ، رسپانس اسکرپٹ، اور یہ طے ہونا چاہیے کہ کامیابی کس چیز کو مانا جائے گا: کال بک، میٹنگ یا بند ڈیل۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ پہلے چھوٹے پیمانے پر تجربہ کیا جائے، پھر رزلٹ دیکھ کر کمیشن ماڈل بڑھایا جائے۔ اگر ورک فلو درست نہ ہو تو صرف کمیشن دینے سے کارکردگی نہیں آتی؛ اگر سسٹم مضبوط ہو تو ایک اچھا سیٹر پورے چینل کی رفتار بدل سکتا ہے۔ سوال یہ ہے: پاکستان میں کتنے سروس بزنس واقعی سیلز سسٹم بناتے ہیں، اور کتنے صرف امید پر کمیشن والا بندہ ڈھونڈتے رہتے ہیں؟