عوامی اثرات

پاکستان کے عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں، معاشی کساد بازاری اور روز افزوں مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسے میں چینی کمپنیوں کا یوٹیلٹی اور توانائی کے شعبے سے کنارہ کش ہونا عام شہری کی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بجلی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رکنے سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور لوڈ شیڈنگ کے پرانے جن کے دوبارہ بوتل سے باہر آنے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جس کا براہ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔

اس خبر نے پاکستان کے عوامی اور معاشی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پاک چین دوستی کو ہمیشہ سے ایک مضبوط معاشی سہارا سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر اٹھنے والے یہ اشارے عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ جب ملک کا سب سے بڑا معاشی اتحادی ہی مالی خطرات کی وجہ سے اپنے سرمائے کو پیچھے کھینچنے لگے، تو تاجر برادری، صنعتی طبقہ اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں youth مزید غیر یقینی اور خوف کا شکار ہو جاتی ہیں۔

عمل یا حل

حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں کو اب صرف روایتی بیان بازی سے باہر نکل کر فوری عملی اور انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ چینی سرمایہ کاروں کے بنیادی تحفظات، بالخصوص توانائی کے شعبے میں اربوں روپے کے گردشی قرضوں کی بروقت ادائیگی اور سیکیورٹی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا لازم ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے یوٹیلٹیز اور طاقت کے اس نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کیں تو صرف چین ہی نہیں بلکہ دیگر عالمی ادارے بھی پاکستان میں نیا سرمایہ لگانے سے گریز کریں گے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشی پالیسیوں کی شفافیت پر حکمرانوں سے سخت سوالات کریں۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کو اپنی توانائی اور معاشی پالیسیوں کی ازسرنو ترتیب دینا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ اب بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی حکمران معاشی ڈھانچے کو سدھار کر چین کا اعتماد بحال کر پائیں گے یا معاشی فاصلے مزید بڑھ جائیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔