عوامی اثرات
مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستانی عوام کے لیے محض ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ ایک گہرا جذباتی اور مذہبی معاملہ ہے۔ جب بھی فلسطین، ایران یا وسیع تر عرب خطے پر حملے ہوتے ہیں، پاکستانی عوام میں شدید اضطراب اور غصہ پایا جاتا ہے۔ برکس الائنس کے اس حالیہ مشترکہ اعلامیے نے، جس میں سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک شامل ہیں، پاکستانیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب مسلم ممالک اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک نیا بلاک تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں لگی یہ آگ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اوورسیز پاکستانیوں کے روزگار کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری طرف، اس پورے منظر نامے میں بھارت کا بطور میزبان ایک فعال سفارتی کردار ادا کرنا اور مختلف الرائے ممالک کو ایک میز پر لانا، پاکستانی دانشوروں اور رائے عامہ میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ پاکستانی عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب خطے کے تمام بڑے ممالک بشمول چین، روس اور خلیجی ریاستیں ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد ہو کر عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، تو پاکستان اس اہم ترین سفارتی صف بندی سے باہر کیوں کھڑا ہے اور اس کے دور رس اثرات ہماری قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر کیا ہوں گے۔
عمل یا حل
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکومت اور خارجہ امور کے ماہرین اپنی روایتی تنہائی پسند پالیسی سے باہر نکلیں۔ پاکستان کو چین اور روس جیسے قریبی اتحادیوں کے ذریعے برکس جیسے بااثر فورمز میں اپنا مقام بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں، تاکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں پاکستان کا موقف بھی سنا جا سکے۔ پاکستانی میڈیا اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ صرف روایتی بیانات پر اقتفا کرنے کے بجائے اس سفارتی تبدیلی کے معاشی اور تزویراتی پہلوؤں پر گہرائی سے بحث کا آغاز کریں، تاکہ رائے عامہ کو عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
عالمی برادری بالخصوص برکس ممالک کو چاہیے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ اور اعلامیوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے عملی اور سخت اقتصادی اقدامات اٹھائیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک اپنے باہمی تنازعات کو ختم کر کے ایک متحدہ محاذ قائم کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ برکس کا یہ نیا اتحاد امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو روکنے میں واقعی کامیاب ہو سکے گا، یا یہ صرف ایک اور بے اثر سفارتی اعلامیہ ثابت ہوگا؟