عوامی اثرات

پاکستان میں بریسٹ کینسر صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور معاشی المیہ بن چکا ہے۔ ہر سال ملک میں تقریباً 90,000 سے زائد خواتین اس موذی مرض کا شکار ہوتی ہیں، جن میں سے نصف سے زائد بروقت اور سستا علاج نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں کینسر کا علاج اتنا مہنگا ہے کہ متوسط اور غریب خاندان کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کے اخراجات برداشت کرتے کرتے شدید معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی شرم اور آگہی کی کمی کے باعث اکثر خواتین بیماری کو آخری سٹیج تک چھپاتی ہیں۔

ایسے میں سنگاپور کی یہ نئی مقناطیسی ٹیکنالوجی پاکستانی عوام کے لیے ایک بہت بڑا معجزہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوتی ہے، تو یہ علاج کے بھاری اخراجات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ ان خاندانوں کو بھی معاشی تباہی سے بچایا جا سکے گا جو علاج کے لیے اپنے گھر اور اثاثے بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستانی معاشرے میں صحت کے مساوی حقوق اور سستے علاج کی بحث کو ایک نیا رخ دیتی ہے۔

عمل یا حل

اس انقلابی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستانی حکومت، وزارتِ صحت اور بڑے کینسر ہسپتالوں کو فوری طور پر فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بیرونی ممالک سے تیار شدہ مہنگی مشینری درآمد کرنے پر انحصار کرنے کے بجائے سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی (NUS) کے ساتھ مشترکہ تحقیقی معاہدے (MoUs) کرنے چاہئیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے کلینیکل ٹرائلز پاکستان میں بھی شروع کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، مقامی طبی یونیورسٹیوں کو بائیو میڈیکل ریسرچ کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیا اور سماجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بریسٹ کینسر کے گرد بنے سماجی جمود کو توڑیں اور خواتین کو بروقت تشخیص کے لیے راغب کریں۔ جب تک ہم جدید سائنس کو سستے داموں اپنے عوام تک نہیں پہنچائیں گے، تب تک صحت کا نظام عام آدمی کے لیے محض ایک خواب رہے گا۔

کیا ہماری حکومت اور طبی ادارے بیوروکریسی کے چنگل سے نکل کر ایسی عالمی ایجادات کو پاکستان لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے، یا غریب مریض اسی طرح مہنگے علاج کی سولی پر چڑھتے رہیں گے؟