عوامی اثرات

یہ موضوع ہر پاکستانی کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ مواصلاتی نظام اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے براہ راست عام شہریوں کی زندگی کو مفلوج کرتے ہیں۔ اس فتنے کو سرحد پار سے ملنے والی سرپرستی کے بعد اب یہ محض حقوق کی جنگ نہیں بلکہ ملک کی سلامتی اور معاشی خودمختاری پر حملہ بن چکی ہے۔

عمل یا حل

غیر ملکی ایجنڈے پر چلنے والی ان دہشت گرد تنظیموں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کے ساتھ ساتھ مقامی بلوچ نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہی اس فتنے کا دائمی حل ہے۔