مکمل تفصیلات
PPP کے چیئرمین Bilawal Bhutto-Zardari نے اتوار کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرے اور ایک منصوبے پر اتفاق ہو جائے تو خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے۔ وہ اس موقع پر Karsaz Monument گئے تھے، جہاں Karsaz bombing کی 19ویں برسی منائی جا رہی تھی۔
یہ بیان اس کے تقریباً ایک ہفتہ بعد سامنے آیا جب وفاقی حکومت نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی۔ وفاق نے اس فیصلے کی وجہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “deliberate disengagement” یعنی جان بوجھ کر دوری کو قرار دیا تھا۔ پس منظر میں PTI کی جانب سے چلائی گئی mobilization drive اور protest march بھی تھی، کیونکہ PTI کے پی میں حکومت میں اور مرکز میں اپوزیشن میں ہے، جبکہ اس کا مطالبہ اپنے قید بانی Imran Khan کی رہائی تھا۔
Bilawal نے یہ بھی کہا کہ ملک اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں Khyber سے Khuzdar تک دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں حکومت بدلنے کے بعد پاکستان کی پالیسی نے بھی ایسے عناصر کو دعوت دی جن سے سیکیورٹی صورتحال مزید بگڑی۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038032/bilawal-says-kp-governors-rule-could-end-if-opposition-agrees-to-fight-against-terrorism
عوامی اثرات
یہ بیان صرف ایک سیاسی جملہ نہیں، بلکہ اس بحث کو پھر سے زندہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کیوں ٹوٹتا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی حملوں، خوف، اور سیکیورٹی دباؤ کا سامنا کرتے رہے ہیں، اس لیے جب مرکز اور صوبے کی کشمکش بڑھتی ہے تو اس کا سیدھا اثر عام شہریوں، کاروبار، سفر، اسکولوں اور روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔
Khyber سے Khuzdar تک حملوں کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسئلہ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں رہا۔ اگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے ایک مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک پر نہ آئیں تو نقصان سب کا ہوگا۔ عوام کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ کیا قیادت اقتدار کی جنگ سے نکل کر ملک کی سلامتی پر ایک زبان ہو سکتی ہے یا نہیں۔
عمل یا حل
اس خبر کا فوری سبق یہ ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی صف بندی نہیں، قومی حکمتِ عملی درکار ہے۔ اگر واقعی اپوزیشن اور حکومت ایک پلان پر متفق ہو سکتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سیکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور صوبائی و وفاقی تعاون کو ترجیح دی جائے۔ گورنر راج جیسا سخت قدم تبھی معنی رکھتا ہے جب اس کے ساتھ واضح روڈ میپ بھی دیا جائے کہ آگے امن کیسے بحال ہوگا۔
اب دباؤ تمام فریقوں پر ہے کہ وہ بیان بازی سے آگے بڑھیں۔ کیا سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ایک میز پر بیٹھیں گی، یا ہر بڑا فیصلہ ایک نئی کشیدگی کو جنم دیتا رہے گا؟ پاکستان کے لیے سوال بہت سیدھا ہے: پہلے ریاست کی حفاظت، یا پہلے سیاسی برتری؟