مکمل تفصیلات
بنکاک، تھائی لینڈ میں ہفتے کے روز حکام نے شدید بارش کے بعد سیلابی آفت کا اعلان کر دیا۔ مسلسل تقریباً 48 گھنٹے بارش ہوتی رہی جس کے نتیجے میں نہریں بھر گئیں، سڑکیں زیرِ آب آ گئیں اور شہری علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ گیا۔ شہر کے گورنر نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی، کیونکہ جمعرات کی دوپہر سے اب تک تقریباً 300 ملی میٹر بارش ہو چکی تھی۔
وزیراعظم Anutin Charnvirakul نے کہا کہ وہ لندن کے دورے کو مختصر کر کے واپس بنکاک آ رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں Phetchaburi Road پر بھی گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔ 67 سالہ Somkid Pheuk-ngam، جو مرکزی بنکاک کے شمال میں ایک نہر کے قریب رہتی ہیں اور دکاندار ہیں، نے بتایا کہ پانی مسلسل اندر آ رہا ہے، باہر جانا مشکل ہے، اور وہ دو دن سے اپنی دکان بند رکھنے پر مجبور ہیں۔
تاریخ: 26 ستمبر 2026
وقتِ اشاعت: 18:20 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032805/thai-capital-bangkok-declares-flood-disaster-after-heavy-rain-leave-canals-full-roads-submerged
رپورٹ کے مطابق یہ سیلابی کیفیت اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ متاثرہ شہری 2011 کے تباہ کن سیلاب سے موازنہ کر رہے ہیں، جب تھائی لینڈ بھر میں 500 سے زائد افراد جان سے گئے تھے اور لاکھوں گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔
عوامی اثرات
بنکاک جیسے بڑے شہر میں جب سڑکیں پانی میں ڈوب جائیں تو اثر صرف ٹریفک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ روزگار، آمدورفت، دکانیں، اسکول اور روزمرہ زندگی سب رک جاتے ہیں۔ نہر کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں گھر سے باہر نکلنا، سامان محفوظ رکھنا اور کاروبار جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس خبر میں اصل تشویش یہ ہے کہ 48 گھنٹوں کی بارش نے شہر کے نظامِ نکاسی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ جب ایک بڑا دارالحکومت پانی میں ڈوبنے لگے تو اس کا جھٹکا پورے ملک کی معیشت، ٹرانسپورٹ اور عوامی اعتماد پر پڑتا ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے بھی یہ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ شدید بارشیں اور ناقص ڈرینیج کس طرح شہری زندگی کو مفلوج کر دیتے ہیں۔
عمل یا حل
حکومت کے لیے فوری ترجیح شہریوں کی حفاظت، نکاسیٔ آب کی بحالی، نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے اور متاثرہ آبادی تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔ اگر بارش کا سلسلہ جاری رہا تو اسکولوں، دفاتر اور ٹریفک کے لیے مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے انتظامیہ کو پہلے سے متبادل ٹریفک پلان اور ریسکیو انتظامات مضبوط رکھنا ہوں گے۔
دوسری طرف شہریوں کے لیے گورنر کی ہدایت پر عمل کرنا، غیر ضروری سفر سے بچنا اور پانی بھرے علاقوں میں گاڑی لے جانے سے گریز کرنا ہی محفوظ راستہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے شہر میں ہر بار بارش کے بعد یہی بحران کیوں پیدا ہوتا ہے؟ کیا بنکاک جیسے شہر اب بھی اپنے ڈرینیج سسٹم میں بڑے اپ گریڈ کے بغیر محفوظ رہ سکتے ہیں؟