عوامی اثرات

بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف یہ حالیہ اور تیز ترین اقدامات عوامی سطح پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ زیارت اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں پر بزدلانہ حملوں کے بعد عوام کے اندر تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ خاران اور واشُک میں ۱۱ دہشت گردوں کی ہلاکت نے جہاں عوام اور فورسز کے حوصلوں کو بلند کیا ہے، وہیں اس بات کا بھی واضح ثبوت فراہم کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

اس کارروائی کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ بلوچستان کے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، امن و امان اور معاشی و ترقیاتی منصوبوں کی بحالی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ برسوں سے ملک دشمن فورسز، خاص طور پر بھارتی سرپرستی میں چلنے والے شبکوں نے صوبے کا امن یرغمال بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ۷۲ گھنٹوں میں ۴۸ دہشت گردوں کا صفایا اس بات کی ضمانت ہے کہ امن کی بحالی اب ریاست کی پہلی اور آخری ترجیح ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس خبر کو پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قوم ایک طرف جہاں شہید ہونے والے جوانوں کے غم میں نڈھال ہے، وہیں دوسری طرف فورسز کے اس بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دینے والے انداز پر فخر محسوس کر رہی ہے۔

عمل یا حل

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی اقدامات ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایک جامع سیاسی اور معاشی حکمت عملی پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنائیں اور غیر ملکی پراکسیز کو دی جانے والی مالی و نظریاتی امداد کی جڑیں کاٹیں۔ بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی، خاص طور پر بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے احساسِ محرومی کو دور کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ بھارتی اور ملک دشمن بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں تاکہ عام لوگ گمراہ ہونے سے بچ سکیں۔ جب تک عوام اور فورسز کا رشتہ مضبوط رہے گا، کوئی دشمن ملک کے امن کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

اب بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارتی سرپرستی میں جاری اس پراکسی وار کو روکنے کے لیے پاکستان کو عالمی سطح پر مزید جارحانہ سفارت کاری اختیار کرنی چاہیے؟ آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے۔