مکمل تفصیلات
کوئٹہ میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے قومی سلامتی اور امن و امان کے معاملے پر ایک سیاسی بحث کو براہِ راست جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں law and order اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے اوپر رکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ پارٹی سیاست سے زیادہ ریاستی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ یہ موقف انہوں نے 18 اکتوبر 2026 کو 12:45 PKT پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں دیا۔
بگٹی نے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور نیشنل سکیورٹی پر بات زمینی حقائق اور عملی اقدامات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی صوبائی کارکردگی کو ناپنے کا معیار یہی ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے اور نتائج کیا نکلے۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا نام لے کر کہا کہ وہ انہیں ذاتی طور پر عزت دیتے ہیں اور دونوں کے درمیان تعلق باہمی احترام پر مبنی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکی ہے، اس لیے اس نوعیت کی گفتگو میں ریاست کی قربانیوں اور سکیورٹی فورسز کی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037913/balochistan-cm-bugti-urges-fazl-to-keep-national-security-above-politics
عوامی اثرات
یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں دہشت گردی، سکیورٹی خدشات اور سیاسی کشمکش کے درمیان مسلسل دباؤ میں رہتے ہیں۔ جب ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کھل کر کہے کہ قومی سلامتی کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، تو یہ صرف ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک بڑے قومی مباحثے کو چھوتا ہے کہ سکیورٹی پر بات کس لہجے میں اور کن معیاروں پر ہونی چاہیے۔
عام شہریوں کے لیے اس بحث کا اثر بہت براہِ راست ہے: سڑکوں کی حفاظت، جلسوں کی سکیورٹی، سرکاری اداروں پر اعتماد، اور دہشت گردی کے خطرات سب اسی سے جڑے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے عملی اقدامات اور قربانیوں کو سامنے رکھے، تو عوامی سطح پر بھی ریاستی پالیسی کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
عمل یا حل
اس واقعے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر ایک مشترکہ اور ذمہ دارانہ زبان اختیار کرے گی یا پھر صوبائی کارکردگی کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا میدان بنا دیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی کے بیان نے کم از کم یہ بحث ضرور کھول دی ہے کہ سکیورٹی کے معاملات میں جذباتی بیانات کے بجائے زمینی حقائق، قربانیوں اور عملی اقدامات کو بنیاد بنایا جائے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان یا جے یو آئی-ف کی طرف سے اس پر کیا ردعمل آتا ہے، اور کیا یہ معاملہ سیاسی تناؤ بڑھاتا ہے یا ایک سنجیدہ قومی گفتگو کی شکل اختیار کرتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے: جب دہشت گردی کا سامنا خود سیاسی جماعتیں کر چکی ہوں، تو کیا اس موضوع پر بات کرتے وقت زیادہ احتیاط، یکجہتی اور ریاستی مفاد کو ترجیح نہیں دینی چاہیے؟