مکمل تفصیلات

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز Bangkok میں International Monetary Fund (IMF) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر Nigel Clarke سے ملاقات کی۔ وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق اس ملاقات میں ٹارگٹڈ فیول سبسڈیز سمیت دیگر معاشی معاملات زیرِ غور آئے، اور اورنگزیب نے کمزور طبقوں کو بچانے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہدفی سبسڈی کے تصور کی وضاحت کی۔

حکومت پہلے ہی موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور 800cc تک کی گاڑیوں کے استعمال کنندگان کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کر چکی ہے، تاکہ عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ 13 ستمبر کو اعلان کے چند روز بعد وزیراعظم Shehbaz Sharif نے ہدایت دی تھی کہ 20 سال تک پرانے موٹر سائیکل، رکشے اور Qingqi رکشے بھی اس اسکیم میں شامل کیے جائیں۔

پاکستان اس وقت IMF کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility (EFF) اور 1.4 ارب ڈالر کے Resilience and Sustainability Facility (RSF) پر بھی رابطے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فریق پہلے EFF کی چوتھی اور RSF کی تیسری review کے بعد staff-level agreement تک پہنچ چکے تھے۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037132/aurangzeb-discusses-targeted-fuel-subsidies-in-meeting-with-senior-imf-official۔

عوامی اثرات

یہ معاملہ عام پاکستانیوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ایندھن مہنگا ہو تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ کرایوں، راشن، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات تک پہنچتا ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے ہدفی سبسڈی ریلیف کا ذریعہ بن سکتی ہے، اگر اس کا دائرہ واقعی ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

دوسری طرف IMF کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں ہر ایسی سبسڈی پر سوال بھی اٹھتا ہے کہ کہیں یہ وقتی سہولت بن کر نہ رہ جائے یا اس کا بوجھ قومی خزانے پر نہ پڑے۔ اسی لیے اس خبر کا اثر صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے، کیونکہ حکومت کو ایک طرف عوامی دباؤ کم کرنا ہے اور دوسری طرف IMF کے ساتھ شرائط بھی نبھانی ہیں۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ ہدفی سبسڈی کاغذ پر اچھی لگنے والی اسکیم رہے گی یا واقعی سڑکوں پر نظر آئے گی۔ اگر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ، Qingqi اور 800cc تک کی گاڑیوں کے لیے شفاف اور قابلِ عمل نظام بنا لیا تو کم آمدنی والے طبقے کو فوری فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اہلیت، رجسٹریشن اور تقسیم کا طریقہ غیر واضح رہا تو یہ ریلیف بھی عام آدمی تک پہنچنے سے پہلے الجھ جائے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ اسکیم کی شرائط، اہلیت اور طریقۂ کار واضح رکھے تاکہ فائدہ صرف مستحق افراد تک پہنچے۔ ساتھ ہی IMF مذاکرات میں یہ مؤقف مضبوطی سے رکھا جائے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا دباؤ سب سے زیادہ نچلے اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا یہ پالیسی واقعی عوامی ریلیف دے گی، یا پھر ایک اور معاشی وعدہ بن کر رہ جائے گی؟